آسٹریلیا میں حزب اللہ کے حامی احتجاج پر خاتون پر فردِ جرم عائد
ہم فلسطین اور لبنان کے لیے انصاف کی غرض سے کھڑے رہنے کے لیے پرعزم ہیں: فلسطین ایکشن گروپ سڈنی
آسٹریلوی پولیس نے بدھ کے روز سڈنی میں ایک مظاہرے میں لہرائے گئے حزب اللہ کے پرچم کی تحقیقات کے بعد ایک 19 سالہ خاتون پر فردِ جرم عائد کر دی۔
نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے کہا، "انہیں گرفتار کر کے ممنوعہ دہشت گرد تنظیم کے نشان کی عوامی نمائش پر فردِ جرم عائد کی گئی۔
گذشتہ ہفتے سڈنی اور میلبورن میں ہونے والے فلسطین کے حامی مظاہروں میں دیگر شرکاء نے بھی حماس کے پرچم یا حزب اللہ کے مقتول رہنما حسن نصر اللہ کی تصاویر والے پلے کارڈز لہرائے۔
احتجاج کے باعث سیاست دان، پولیس اور کمیونٹی قائدین کی رائے اس بات پر تقسیم ہو گئی ہے کہ آزادئ اظہار یا غیر قانونی سرگرمی کیا ہے۔
حکام اس ہفتے دو طے شدہ مظاہروں سے قبل ہائی الرٹ پر ہیں جو حماس کے سات اکتوبر کے حملے کا ایک سال مکمل ہونے پر کیے جائیں گے۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانی نے بدھ کو کہا، دو مظاہرے جو چھے اور سات اکتوبر کو طے شدہ ہیں – کو نہیں ہونا چاہئے اور یہ کہ کسی بھی مظاہرے کو “ناقابلِ یقین حد تک اشتعال انگیز” سمجھا جائے گا۔
انہوں نے قومی نشریاتی ادارے اے بی سی کو بتایا، "اس سے کوئی مقصد آگے نہیں بڑھے گا۔ اس سے بہت زیادہ تکلیف ہو گی۔ البانی نے مزید کہا کہ وہ اس کے بجائے شمعیں جلانے کی ایک تقریب میں شرکت کریں گے۔
پولیس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مظاہروں کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کرے گی۔
نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے منگل کو کہا کہ منتظمین کے ساتھ گفتگو کے باوجود وہ "مطمئن نہیں تھے کہ احتجاج سلامتی سے آگے بڑھ سکتا ہے" اور اس لیے ان پر پابندی کی غرض سے نیو ساؤتھ ویلز کی سپریم کورٹ میں درخواست دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
سماعت اس ہفتے کے آخر میں عدالت میں ہو گی۔
احتجاج کے منتظمین فلسطین ایکشن گروپ سڈنی نے کہا، پولیس کی کارروائی "بنیادی جمہوری حقوق پر حملہ" تھی۔
گروپ نے ایک بیان میں کہا، "ہم اپنے حقِ احتجاج کا دفاع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور فلسطین اور لبنان کے لیے انصاف کی غرض سے کھڑے رہنے کے لیے پرعزم ہیں۔"