جوابی کارروائی میں ایرانی پاسداران انقلاب پر حملے شامل ہو سکتے ہیں : امریکی ذمے داران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایسے وقت میں جب امریکی جو بائیڈن کی انتظامیہ ایران پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے، امریکی انتظامیہ کے معاونین نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کو جواب دینے کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ وسیع پیمانے پر رابطے میں ہے۔ جوابی کارروائی میں فوجی حملہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔

ایک ذمے دار نے انکشاف کیا ہے کہ زیر غور ممکنہ طریقوں میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں پر حملہ یا پھر یمن یا شام میں پاسداران انقلاب کو براہ راست نشانہ بنانا شامل ہے۔ پولیٹیکو ویب سائٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کے معاونین تزویراتی رد عمل مگر محدود رد عمل کو ترجیح دے رہے ہیں۔

اسرائیل میں گرنے والا ایرانی میزائل
اسرائیل میں گرنے والا ایرانی میزائل

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کو مشورہ دیا تھا کہ وہ رواں ہفتے ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کی بوچھار کا مناسب جواب دے۔ تاہم انھوں نے ایرانی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملے کے حوالے سے اپنی مخالفت کا اظہار کیا تا کہ خطے میں بھڑکنے والے تنازع کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

جو بائیڈن امید کر رہے ہیں کہ اسرائیل اپنے حقِ دفاع کے سلسلے میں سوچ سمجھ کر قدم اٹھائے گا جس کے ذریعے مزید انتقامی جذبات جنم نہ لیں اور مشرق وسطیٰ کا خطہ ایک وسیع جنگ میں نہ دھکیل دیا جائے۔

واضح رہے کہ منگل کی شام ہونے والے ایرانی میزائل حملے پر اسرائیل نے باور کرایا تھا کہ تہران اپنی حرکت پر نادم ہو گا۔ اسرائیل نے شدید رد عمل کی دھمکی بھی دی۔

ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے زور دے کر کہا کہ اگر اسرائیل نے ایک اور غلطی کی تو ان کے ملک کا جواب دو گنا تباہ کن ہو گا۔

اسی طرح ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقجی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کسی بھی نئی کارروائی کا زیادہ شدت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے گذشتہ شب اعلان کیا تھا کہ میزائل حملوں میں اسرائیل کے 3 فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں وہ اڈا بھی شامل ہے جہاں سے اڑان بھرنے والے جنگی طیاروں نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی پناہ گاہ پر بم باری کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں