اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اور اس کے اثرات کے علاوہ اس ماہ کے آغاز میں ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے اسرائیل پر ایرانی حملہ تقریباً ایک انسانی تباہی کا باعث بننے سے بال بال بچا تھا۔
ایک ہی وقت اور جگہ پر
فرانسیسی فضائی کمپنی ایئر فرانس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کس طرح اس کا ایک کمرشل طیارہ عراقی فضائی حدود کے اوپر سے اسی وقت پرواز کر گیا جب ایرانی میزائل اسی وقت اور جگہ سے گذرے۔
اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس کی پرواز جو کہ یکم اکتوبر کو پیرس اور دبئی کے درمیان تھی عراق کی فضائی حدود کے اوپر سے ایسے وقت میں گذرا جب ایران نے تقریباً 200 بیلسٹک میزائل داغے، کیونکہ ان میزائلوں کو اسرائیل تک پہنچنے کے لیے عراق کی فضائی حدود سے گذرنا تھا۔
فرانسیسی LCI ٹیلی ویژن چینل کے مطابق کمپنی نے وضاحت کی کہ پرواز AF662 نے عراقی فضائی حدود کی بندش سے کچھ دیر قبل ایرانی حملے کے آغاز کے ساتھ ہی عراقی فضائی حدود کو عبور کیا۔ تاہم کسی نے اسے انتباہ نہیں کیا۔ فرانسیسی LCI ٹیلی ویژن چینل کے مطابق اس نے جو معلومات اکٹھی کی ہیں ان کی بہ دولت وہ ایران کی طرف سے اسرائیل پر ممکنہ حملے کی نشاندہی کرنے میں کامیاب رہی جس میں بیلسٹک میزائل کا آغاز بھی شامل ہے۔
پائلٹوں نے عراق کے آسمان میں میزائل دیکھے
اس نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایئر فرانس کے پائلٹوں نے رات کے اندھیرے میں میزائلوں کو دیکھا تھا،۔ عراقی ایئر ٹریفک کنٹرول سینٹر نے ان کے کراسنگ کے دوران ان کے لیے محفوظ رہنے کی خواہش کی۔
اس نے انکشاف کیا کہ ایک اور پرواز پیرس واپس آگئی، جبکہ سنگاپور سے پیرس جانے والی تیسری پرواز نے لمبا راستہ اختیار کرنے کی خاطرمزید ایندھن حاصل کرنے کے لیے نئی دہلی میں ایک اضافی سٹاپ کیا۔
200 میزائل
قابل ذکر ہے کہ ایران نے یکم اکتوبر کو اسرائیل پر تقریباً 200 میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ گزشتہ ماہ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ اور جولائی میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔
اس کے جواب میں بہت سے اسرائیلی حکام نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے پاس جوابی کارروائی کے لیے تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔