امریکا اسرائیل میں میزائل شکن نظام اور فوج بھیجے گا: پینٹاگون
جدید امریکی تھاڈ نظام کا مقصد حالیہ ایرانی حملوں کے خلاف "اسرائیل کا دفاع کرنا" ہے
امریکہ نے اتوار کے روز کہا کہ وہ اسرائیل میں امریکی فوجیوں کو ایک جدید امریکی میزائل شکن دفاعی نظام کے ساتھ بھیجے گا جو ایک انتہائی غیر معمولی تعیناتی ہے جس کا مقصد ایران کے میزائل حملوں کے بعد ملک کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد "اسرائیل کا دفاع کرنا" تھا جو یکم اکتوبر کو تہران کی جانب سے اسرائیل پر 180 سے زیادہ میزائل داغے جانے کے بعد ایران کے خلاف متوقع جوابی کارروائی کے لیے پر تول رہا ہے۔
حکام کہتے ہیں کہ امریکہ نجی طور پر اسرائیل پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ شرقِ اوسط میں وسیع تر جنگ شروع کرنے سے بچنے کے لیے اپنے ردِ عمل کی پیمانہ بندی کرے جبکہ بائیڈن نے ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملے کی اعلانیہ مخالفت کی ہے اور ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان میجر جنرل پیٹرک رائڈر نے اس تعیناتی کو "حالیہ مہینوں میں امریکی فوج کی وسیع تر تبدیلیوں" کا حصہ قرار دیا تاکہ اسرائیل کی حمایت اور ایران اور ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے حملوں کے خلاف امریکی اہلکاروں کا دفاع کیا جائے۔
لیکن اسرائیل کی اپنی فوجی صلاحیتوں کے پیشِ نظر جنگی مشقوں کے علاوہ امریکی فوج کی تعیناتی بہت کمیاب ہے۔ امریکی فوجیوں نے حالیہ مہینوں میں شرقِ اوسط میں جنگی بحری جہازوں اور لڑاکا طیاروں کے خلاف اسرائیل کے دفاع میں مدد کی ہے جب وہ ایرانی حملے کی زد میں آیا تھا۔
لیکن یہ فوجی اسرائیل سے باہر مقیم تھے۔
تھاڈ امریکی فوج کے تہہ دار فضائی دفاعی نظام کا ایک اہم حصہ ہے اور اسرائیل کے پہلے سے ہی مضبوط میزائل شکن دفاع میں اضافہ کرتا ہے۔
ایک تھاڈ بیٹری چلانے کے لیے عموماً تقریباً 100 فوجیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں چھ ٹرک پر لدے ہوئے لانچرز شامل ہوتے ہیں جن میں ہر لانچر پر آٹھ انٹرسیپٹرز اور ایک طاقتور ریڈار ہوتا ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے قبل ازیں اتوار کو خبردار کیا تھا، امریکہ اپنے فوجیوں کو "اسرائیل میں امریکی میزائل نظام چلانے کے لیے تعینات کر کے ان کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہا ہے۔"
عراقچی نے ایکس پر پوسٹ کیا، "حالیہ دنوں میں ہم نے اپنے علاقے میں ایک مکمل جنگ پر قابو رکھنے کے لیے زبردست کوششیں کی ہیں لیکن میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ اپنے لوگوں اور مفادات کے دفاع کے لیے ہمارے پاس کوئی سرخ لکیریں نہیں ہیں۔" پھر بھی ماہرین کہتے ہیں کہ ایران امریکہ کے ساتھ براہِ راست جنگ سے بچنے کا خواہاں ہے اور اسرائیل میں امریکی افواج کی تعیناتی اس کے محتاط طور پر آگے بڑھنے کا ایک اور عنصر بن جاتی ہے۔
امریکی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ یہ نظام کتنا جلدی اسرائیل میں تعینات کیا جائے گا۔
پینٹاگون نے کہا کہ تھاڈ کو 2019 میں مشقوں کے لیے جنوبی اسرائیل میں تعینات کیا گیا تھا اور اس کی وہاں معلوم موجودگی کا یہ آخری اور واحد موقع تھا۔
امریکہ کی سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن تھاڈ نظام بناتی اور مربوط کرتی ہے جو مختصر، درمیانے اور متوسط فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کو مار گرانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ آر ٹی ایکس کے تحت ریتھیون نے اس کے جدید ریڈار بنائے ہیں۔