’40 منٹ کا رقص‘ کملا ہیرس اور بائیڈن نے ٹرمپ کا مذاق کیوں اڑایا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی ریلیوں کے دوران ایک موقعے پر ریلی کو ڈانس فیسٹیول میں تبدیل کرنے کے بعد ان کی ڈیموکریٹک حریف کملا ہیرس نے ان پر تنقید کی ہے۔

کملا ہیرس کے ساتھ صدر جو بائیڈن نے بھی ٹرمپ کا مذاق اڑایا۔ انہوں نے فلاڈیلفیا میں ایک انتخابی تقریب کے دوران طنزیہ انداز میں پوچھا کہ "ٹرمپ 30 منٹ تک اسٹیج پر کھڑے رہے اور رقص کیا۔ اس آدمی کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔ یہ اس کی شکست کا اظہار ہے‘‘۔

ہیرس نے اس واقعے کا مذاق اڑاتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کلپس کا ایک گروپ شیئر کیا، جس میں ٹرمپ کو موسیقی کی دھنوں اور گانوں پر جھومتے ہوئے دکھایا گیا۔ کملا ہیرس نے کہا کہ "مجھے امید ہے کہ وہ ٹھیک ہوں گے"۔

انہوں نے کہاکہ میرا سخت ریپبلکن حریف "کھوئے ہوئے اور الجھے ہوئے" لگ رہا ہے۔

"بہت خاص"

جب کہ ٹرمپ کی مہم نے ریپبلکن امیدوار کی طرف سے منعقد کیے گئے اس "کنسرٹ" کی تعریف کی۔ اس نے ڈانس کو جو ان کی بے ساختہ شخصیت کے لیے جانا جاتا ہے کو "بہت خاص" قرار دیا۔

ٹرمپ نے دو روز قبل پنسلوانیا میں ایک انتخابی ریلی کواس وقت ختم کرنے کا ارادہ کیا جب زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے ان کی صحت متاثر ہوئی تھی۔

لیکن انہوں نے اسٹیج نہیں چھوڑا بلکہ موسیقی اور گانے نشر کرنے کے لیے کہا۔ موسیقی کی دھن پر موصوف نے خوب رقص کرکے حاضرین کو محظوظ کیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کملا ہیرس کے اپنے حریف کی صحت اور دماغی حالت کے بارے میں تبصرے اس منظر کی عکاسی کرتے ہیں جو حالیہ عرصے کے دوران دونوں امیدواروں کے درمیان غالب رہا، کیونکہ ان میں سے ہر ایک نے جان بوجھ کر ایک دوسرے کی ذہنی اور صحت کی صلاحیتوں پر سوال اٹھائے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں