لبنان میں ہلاک اور زخمی شہریوں کی تعداد ناقابل قبول ہے: بوریل
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی حدود میں رہ کر حزب اللہ کو جواب دینا چاہیے۔ جوزپ بوریل نے لعربیہ کو مزید کہا کہ لبنان میں شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد ناقابل قبول ہیں۔
لبنانی وزیر اعظم نجیب میقاتی نے اپنی طرف سے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے ان کوششوں کی حمایت کریں جو جاری حملوں کو ختم کریں اور فوری جنگ بندی نافذ کریں۔ انہوں نے تعاون کرنے والے ملکوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ واضح رہے لبنان کے لیے فرانس 108 ملین، جرمنی 103 ملین اور امریکہ نے 300 ملین ڈالر امداد فراہم کی ہے۔
فرانسیسی صدر نے حزب اللہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی اشتعال انگیزی بند اور اندھا دھند حملے بند کردے ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا حزب اللہ کی فوجی کامیابیوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لبنان میں فتح حاصل کر رہا ہے۔
اس حوالے سے اسرائیلی حکام کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے میکرون نے کہا کہ ہم تہذیبوں کے تصادم پر بہت بات کرتے ہیں۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ جو بھی جارحیت کو ہوا دیتا ہے وہ خود تہذیب کا دفاع کر رہا ہے۔
لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک پر اسرائیلی حملوں میں 2500 سے زائد افراد جاں بحق اور دس لاکھ سے زائد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اسرائیل اور حزب اللہ 23 ستمبر کو کھلی محاذ آرائی میں داخل ہوگئے ہیں۔