چین نے امریکا اور تائیوان کے درمیان دو ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کے سمجھوتے پر شدید تنقید کی ہے۔ چینی حکومت کے مطابق بیجنگ اپنی خود مختاری کے دفاع اور اپنی اراضی کی سلامتی کے لیے "جوابی اقدامات" کرے گا۔
یاد رہے کہ امریکا قانونی طور پر تائیوان کو (جسے چین اپنی اراضی کا حصہ شمار کرتا ہے) اس کے دفاع کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے کا پابند ہے اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان سرکاری سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ یہ امر چین کو مسلسل پریشان رکھتا ہے۔
امریکی وزارت دفاع "پینٹاگان" نے جمعے کے روز بتایا تھا کہ امریکا نے تائیوان کو دو ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کے ممکنہ سمجھوتے کی منظوری دے دی ہے۔ اس میں جدید فضائی دفاعی میزائل نظام کا تائیوان کے حوالے کیا جانا شامل ہے۔ اس نظام کو پہلی بار یوکرین میں استعمال کیا گیا۔
ہفتے کو رات گئے جاری ہونے والے چینی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ وہ اس فروخت کی مذمت اور مخالفت کرتی ہے۔ مزید یہ کہ اس سلسلے میں امریکا کے سامنے "سرکاری احتجاج" پیش کر دیا گیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام کی تائیوان کو فروخت چین کی خود مختاری اور اس کے سیکورٹی مفادات کی سنگین خلاف ورزی ہے، یہ چینی امریکی تعلقات کو خطرناک حد تک نقصان پہنچائے گی۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ چین اس حوالے سے جوابی تدابیر اختیار کرے گا اور قومی خود مختاری، امن اور وحدت اراضی کے بھرپور دفاع کے واسطے ضروری اقدامات کرے گا۔
چین تائیوان کو اپنی اراضی کا حصہ شمار کرتا ہے جس کو وہ 1949 میں چینی خانہ جنگی کے اختتام کے بعد سے خود سے متحد کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔