ایران کی وجہ سے عراق کی اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف شکایت

عراق نے ایران پر حملے میں اسرائیل کی جانب سے اپنی فضائی حدود کے استعمال پر احتجاج کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراقی حکومت نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو احتجاج کرتے ہوئے ایک سرکاری یادداشت پیش کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں اسرائیل کی طرف سے ایران پر حملہ کرتے ہوئے عراق کی فضائی حدود اور خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کی گئی ہے۔ اسرائیل نے 26 اکتوبر کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے عراقی فضائی حدود کا استعمال کیا ہے۔

وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس خلاف ورزی کے بارے میں امریکی فریق کے ساتھ بات چیت کرے۔ دوطرفہ سٹریٹجک فریم ورک معاہدے کی شرائط اور عراق کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے امریکہ کے عزم کے مطابق اس سے بات کی جائے۔

عراق کی خودمختاری، آزادی اور اس کی سرزمین کے تقدس کے لیے عراقی حکومت نے اپنے پختہ عزم کی تصدیق کی ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر کام کر رہی ہے۔ عراقی کسی صورت اس چیز کی اجازت نہیں دیں گے کہ اس کی فضائی حدود یا زمینوں کو دوسرے ممالک پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ موقف خطے میں استحکام کو برقرار رکھنے، علاقائی تنازعات میں اپنی سرزمین کے کسی بھی استحصال کو روکنے اور بات چیت اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے تنازعات کے حل کی پالسی پر عمل کی عراقی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔

عراقی وزارت خارجہ نے قبل ازیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کے سفیروں کو آگاہ کیا تھا کہ وہ عراق کی خودمختاری کے تحفظ پر زور دیں۔

ایجنسی فرانس پریس کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے ہفتے کے روز اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی طیاروں نے امریکی فوج کے لیے دستیاب عراقی فضائی حدود کا استعمال کرتے ہوئے ایران کی طرف بہت سے ہلکے وار ہیڈز سے لیس کئی طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی میزائلوں کو لانچ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں