پابندی کے دو سال بعد افغان افیون کی کاشت میں اضافہ، پیداواری مرکز منتقل ہوا: اقوامِ متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

افغانستان جو طویل عرصے سے ہیروئن کے لیے خام مال کا دنیا کا سب سے بڑا فراہم کنندہ ہے، وہاں طالبان کی جانب سے پابندی لگانے کے بعد سے دوسرے پورے سال میں بیس فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن یہ پابندی سے پہلے کی سطح کا ایک معمولی حصہ ہے۔ یہ بات اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہی گئی۔

طالبان کے اعلیٰ روحانی پیشوا نے اپریل 2022 میں منشیات کی کاشت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کے سالانہ جائزے کے مطابق اس پابندی کے باعث 2023 میں ملک میں افیون کی کاشت میں 95 فیصد بڑی کمی واقع ہوئی۔

اس سال کاشت کا تخمینہ 19 فیصد سے بڑھ کر 12,800 ہیکٹر (32,000 ایکڑ) ہو گیا اور پیداوار کا مرکز ملک کے روایتی جنوب مغرب سے شمال مشرق کی طرف منتقل ہو گیا، یہ بات منگل کو شائع ہونے والی یو این او ڈی سی کی تازہ ترین رپورٹ میں بتائی گئی۔

اقوامِ متحدہ نے ایک بیان میں کہا، "2024 میں اضافے کے باوجود افیون پوست کی کاشت 2022 کی نسبت بہت کم ہے جب ایک اندازے کے مطابق 232,000 ہیکٹر پر کاشت کی گئی تھی۔"

رپورٹ میں کہا گیا، خشک افیون کی قیمتیں اس سال کی پہلی ششماہی میں تقریباً 730 ڈالر فی کلو گرام پر مستحکم رہیں جو پابندی سے پہلے کی اوسط قیمت 100 ڈالر سے کہیں زیادہ ہے۔ گذشتہ سال کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اگست 2023 میں کھیتوں میں ادا کردہ قیمتیں 408 ڈالر کی "20 سال کی بلند ترین سطح" تک پہنچ گئی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا، پاکستان کی سرحد سے متصل افغانستان کے جنوب مغربی علاقے میں جہاں سے 2023 میں ملک کی پیداوار کا تقریباً نصف حصہ آیا تھا، وہاں اس سال کاشت میں 65 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس خطے کے پوست کی کاشت والے صوبوں میں سوائے ہلمند کے 434 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان کی سرحدوں سے متصل شمال مشرقی علاقے میں اس سال کاشت 381 فیصد بڑھ کر 7,563 ہیکٹر تک پہنچ گئی جو دوسرے بڑے پیدا کنندہ جنوب مغرب میں کاشت شدہ رقبے سے چار گنا زیادہ ہے۔

شمال مشرق کی تقریباً تمام پیداوار ایک صوبے بدخشاں میں تھی۔ اس پہاڑی خطے میں ہندوکش کا ایک حصہ اور چین کے ساتھ افغانستان کی نسبتاً مختصر سرحد شامل ہے۔

یو این او ڈی سی نے کہا، "زیادہ قیمتیں اور افیون کے کم ہوتے ذخائر کسانوں کو پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر راغب کر سکتے ہیں بالخصوص ہمسایہ ممالک سمیت روایتی کاشت کے مراکز سے باہر کے علاقوں میں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size