اسرائیل اور عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ غزہ کے رہنے والے 230 مریضوں کو تباہ شدہ غزہ سے نکال کر متحدہ عرب امارات اور رومانیہ میں علاج کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور کوگاٹ کے مطابق زیر محاصرہ غزہ سے کرم شاہ لوم راہداری کے راستے نکالے جانے والے مریضوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ ان مریضوں کو علاج کے لیے باہر بھجوانے کے اس آپریشن میں متحدہ عرب امارات، یورپی یونین اور عالمی ادارہ صحت شامل ہیں جنہوں نے اس کے لیے کوششیں کیں۔
ان میں بعض ایسے مریض بھی موجود ہیں جن کا مدافعتی نظام ختم ہو چکا ہے۔ وہ خون کے کینسر کی بیماری میں مبتلا ہیں، کڈنی کے انتہائی خراب حالت کے مریض ان میں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں دھماکوں، بمباری اور تباہی کے باعث صدمے کی کیفیت میں اپنی ذہنی صحت کھو دینے والے مریض اس میں شامل ہیں۔ انہیں مسلسل ناکہ بندی کی زد میں آئے ہوئے غزہ سے نکالنے کے بعد کرم شاہ لوم راہداری کے راستے جنوبی اسرائیل کے علاقے ایلات لایا گیا۔ جہاں سے انہیں بذریعہ طیارہ روانہ کر دیا گیا۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ کارروائی منگل کے روز مکمل کی گئی۔ جبکہ ان 230 فلسطینیوں کو علاج کی سہولت کے لیے بھجونے کے بعد بھی 14 ہزار فلسطینی مریض ابھی غزہ میں اسی طرح کے موجود ہیں جنہیں فوری طور پر غزہ سے باہر کسی اور ملک میں علاج کے لیے بھیجانا لازم ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ عالمی ادارہ صحت اسرائیل سے اجازت لینے میں کامیاب ہو سکے۔
خیال رہے 43391 فلسطینی غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ میں قتل ہو چکے ہیں۔ جبکہ زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 102347 ہے۔
پیپرکون کے مطابق اب تک 5 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو غزہ سے باہر علاج کے لیے بھجوایا جا چکا ہے۔