ٹرمپ نے اپنی جیت کے بعد کن لوگوں سے انتقام کا عہد کیا تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اپنی انتخابی مہم کے آغاز کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن جیتنے کےبعد اپنے مخالفین سے بدلہ لینے کا بار بار عزم کیا ہے۔ ان کے مخالفین میں انہیں مختلف عدالتی مقدمات میں پھنسانے والے اور ان کے سیاسی حریف شامل ہیں۔

برسوں پرمحیط ٹرمپ کے بیانات، سوشل میڈیا پوسٹوں اور تقاریر کو دیکھا جائے تو وہ ہرجگہ سیاسی مخالفین، ناقدین اور میڈیا کو ایذا پہنچانے، قید کرنے، ملک بدر کرنے اور یہاں تک کہ پھانسی دینے کے انتقامی الفاظ سے بھرے پڑے ہیں۔

اخبار ’پولیٹیکو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2024ء کی مہم کے آخری ہفتوں میں ٹرمپ نے اپنے انتقام کے دعوے تیز کر دیے ہیں۔

نینسی پیلوسی

اس سلسلے میں سب سے نمایاں نام ایوان نمائندگان کی سابق سپیکر نینسی پلوسی کا ہے۔ ٹرمپ نے ستمبر میں کہا تھا کہ پلوسی کو اپنے شوہر کے ویزے کے حصص کی فروخت کے سلسلے میں فوجداری الزامات کا سامنا کرنا چاہیے۔ انہوں نے چند ماہ قبل محکمہ انصاف کے عدم اعتماد کے قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ 6 جنوری 2021ء کو کیپیٹل میں مناسب سکیورٹی کو یقینی بنانے میں ناکامی پر ان کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ ان کے حامیوں نے اس وقت عمارت پر دھاوا بول دیا تھا جب کانگریس 2020ء کی صدارتی دوڑ میں بائیڈن کی جیت کی تصدیق کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔

نیویارک کی اٹارنی جنرل

نیو یارک کے اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز ان ناموں میں شامل ہیں جن کے خلاف انتقامی کارروائی کی جا سکتی ہے۔انہوں نے اپنی کاروباری سلطنت میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کا الزام لگاتے ہوئے دائر کیے گئے مقدمے کے نتیجے میں ٹرمپ کو مشتعل کردیا تھا۔

اس کیس کے نتیجے میں ٹرمپ کے خلاف 450 ملین ڈالر سے زیادہ کا فیصلہ آیا، مگر ٹرمپ نے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔

مین ہٹن جج

جیمز کے علاوہ یہاں مین ہٹن کے جج آرتھر اینگورون ہیں جو نیویارک میں ایک مقدمے کی سماعت کرنے والے جج ہیں۔ انہوں نے جیمز کے سول فراڈ کیس کی سننے کی وجہ سے ٹرمپ کی جانب سے ریکارڈ تنقید کا سامنا کیا تھا۔

اس سال کے شروع میں ایک انتخابی مہم میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اینگورون کو "گرفتار کیا جانا چاہیے اور اس کے مطابق سزا دی جانی چاہیے"۔

سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر

ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی کو ٹرمپ نے 2017ء میں برطرف کر دیا تھا۔ انہوں نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت پر مواخذے کی ناکام کوشش کی تھی۔

اگلے سال جب کومی نے ایک کتاب جاری کی تو ٹرمپ نے ٹویٹر پر ایک ان کے خلاف تنقید شروع کردی تھی۔ ٹرم نے دعویٰ کیا تھا کہ ’ایف بی آئی‘ کے سابق سربراہ نے "خفیہ معلومات لیک کی ہیں۔ اس کے لیے قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہیے"۔ انہوں نے کہا کہ جیمز کومی نے کانگریس سے جھوٹ بولا تھا۔

فیس بک کے بانی

اس کے علاوہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ بھی ٹرمپ کے نمایاں مخالفین میں شامل ہیں۔ انہیں ٹرمپ اور ان کے کچھ اتحادیوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ اور ان کی اہلیہ پریسیلا چان نے 2020 میں انتخابی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے 420 ملین ڈالر کا عطیہ دیا تھا۔

ٹرمپ کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ رقم ان کے دوبارہ انتخاب کو کمزور کرنے کے لیے درپردہ سازش تھی۔

ستمبر میں جاری ہونے والی ایک کتاب میں ٹرمپ نے زکربرگ پر "صدر کے خلاف شرمناک سازش"۔ کا الزام لگایا۔ انہون نے خبردار کیا کہ "ہم اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگراس نے اس بار کوئی غیر قانونی کام کیا تو وہ اپنی باقی زندگی جیل میں گزاریں گے "۔

مائیکل کوہن

دریں اثناء ٹرمپ کے سابق وکیل مائیکل کوہن کو انتقام کا ممکنہ ہدف سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ٹرمپ نے ان پر بار بار کڑی تنقید کی۔ ٹرمپ کے صدرمنتخب ہونے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد کوہن ان کے خلاف ہو گئے تھے اور خفیہ رقم کے مقدمے میں اہم گواہ بن گئے۔

ٹرمپ کے بہت سے حامیوں نے دھمکیوں کو مہم کے بیانات کے طور پر مسترد کر دیا جس کا مقصد ان کےخلاف اکسانا تھا۔

توقع کی جاتی ہے کہ ٹرمپ کے آس پاس ایسے معاونین ہوں گے جو اس کی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے معیارات پر عمل کرنے کے لیے زیادہ تیار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں