ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے تارکین وطن کا سرحد پر دھاوا بولنے کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد امیگریشن پر سخت پابندیاں عائد کرنے کے خدشات کے درمیان دو امریکی عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ موجودہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ ٹرمپ کی صدارتی مدت شروع ہونے سے قبل سرحدی تجاوزات میں ممکنہ اضافے کے لیے ہنگامی منصوبے بنا رہی ہے۔

دونوں عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے سکریٹری الیجینڈرو میئرکاس نے پیر کی سہ پہر اپنے سینئر مشیروں اور کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن اور امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے سربراہوں کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ کی جہاں شرکاء نے اس بارے میں خدشات کا اظہار کیا کہ ٹرمپ کی ممکنہ جیت سرحد کی سکیورٹی پر کیا کر سکتی ہے۔

این بی سی نیوز ویب سائٹ کے مطابق یہ سب اس وقت سامنے آیا جب تارکین وطن کی جانب سے واٹس ایپ ایپلی کیشن پر گروپوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا جس میں ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے قبل غیر قانونی تارکین وطن کے داخل ہونے کے بہت زیادہ امکانات کا انکشاف ہوا ہے۔

تارکین وطن میں اضافہ

حکام نے بتایا کہ وٹس ایپ گروپ پر پوچھے گئے سوالات غیر معمولی نہیں تھے کیونکہ انہوں نے بتایا کہ ہوم لینڈ سکیورٹی کا محکمہ امیگریشن میں ممکنہ اضافے سے نمٹنے کے لیے کس طرح عملی طور پر تیار ہے۔ اس بارے میں بھی سوالات ہیں کہ آیا آئی سی ای حراستی مراکز میں تارکین وطن کو ملک بدری سے قبل رکھنے کے لیے کافی جگہ موجود ہے۔ یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا ایجنسیاں ایسے تارکین وطن کو ملک بدری کے تیز رفتار راستے پر رکھنے کے قابل ہوں گی جو پناہ کی ضروریات پوری نہیں کرتے ہیں؟

اس امکان کے بارے میں بھی بات چیت کی گئی ہے کہ یہ تعداد نظام کو مغلوب کر سکتی ہے اور ایجنٹوں کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ تارکین وطن کو امریکہ میں چھوڑ دیں جن کی عدالت کی تاریخیں مستقبل میں سال مقرر ہیں۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے ابھی تک امریکہ جانے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ نہیں دیکھا ہے۔

میکسیکو سے تارکین وطن
میکسیکو سے تارکین وطن

لیکن ٹرمپ کے منتخب ہونے کی صورت میں وہ آخری لمحات میں ملک میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافے کی توقع کر رہے ہیں۔ کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن اور امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کی تیاریوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

آمد کا وقت

جیسے ہی ٹرمپ کی فیصلہ کن فتح کی خبر منگل کی رات پہنچی تارکین وطن نے واٹس ایپ پر بات چیت شروع کردی۔ وٹس ایپ انسانی سمگلروں کے لیے ایک عام چینل ہے جو وسطی اور جنوبی امریکہ کے ایسے لوگوں کے لیے اپنی خدمات کی تشہیر کر رہا ہے جو امریکہ آنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ امریکہ آنے کے وقت کے بارے میں بہت سے صارفین کے درمیان گفتگو ہوتی رہی۔

بدھ کی صبح واٹس ایپ پر ایک شخص نے ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے اگلے دن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 21 جنوری کے بعد وہ سخت حفاظتی اقدامات کے ساتھ سرحدوں کو بند کر دے گا۔ ایک اور واٹس ایپ صارف نے مزید کہا 10 جنوری تک، ایک موقع ہے۔ اس نے غلط طور پر یہ بھی کہا کہ 20 جنوری کی بجائے 10 جنوری کو ٹرمپ عہدہ سنبھالیں گے۔

میکسیکو سے تارکین وطن
میکسیکو سے تارکین وطن

ایک اور واٹس ایپ صارف نے کہا کہ میری بہن ابھی بھی میکسیکو میں ہے، میں اس کے بارے میں سوچ کر سو نہیں پایا۔ اس کے برعکس ایک مشنری نے وضاحت کی ہے کہ اس نے 21 جنوری کو اقتدار سنبھالنا ہے وہ ابھی تک کوئی فرمان جاری نہیں کر سکتا۔ دوسرے نے جواب دیا کہ اس کے ذہن میں ابھی زیادہ وقت باقی نہیں ہے۔ ایک شخص نے اعلان کیا کہ آپ کے پاس داخل ہونے کے لیے جنوری تک وقت ہے۔

ٹرمپ کی جیت کا خوف

امریکہ کی سرحد کے قریب میکسیکو کے ایک اور حصے نوگالس میں پناہ گاہ کے آپریٹر فرانسسکو لوریرو نے کہا کہ اس نے تارکین وطن سے انتخابات کے نتائج اور ان کے خدشات کے بارے میں بات کی ہے۔ آپریشر نے کہا ہمارے پاس ایسے تارکین وطن ہیں جو فکر مند ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ اب ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ شہر میں سان جوآن بوسکو پناہ گاہ چلانے والے لوریرو نے اس ایپ جسے تارکین وطن پناہ کی درخواست دینے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس ایپ کو امریکہ داخل ہونے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پناہ گاہ کے آپریٹر نے کہا کہ وہ تارکین وطن کے ایک حالیہ کارواں سے واقف ہے جو میکسیکو کی ریاست چیاپاس گوئٹے مالا کی سرحد کے ساتھ واقع علاقہ چھوڑ کر میکسیکو کے شمالی حصے میں داخل ہوئے تھے۔

واضح رہے ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بار بار اشارہ کیا ہے کہ کئی ریاستوں میں جرائم میں اضافے کی وجہ پناہ گزین ہیں۔ انہوں نے سرحدوں کو بند کرنے اور ان کا داخلہ روکنے کا عہد کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں