امریکہ غزہ میں جاری لڑائی میں حقیقی اور طویل وقفہ چاہتا ہے: بلنکن

اسرائیل غزہ کے لیے امداد نہیں روک رہا: واشنگٹن؛ امدادی گروپوں کی متضاد رائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکہ غزہ میں لڑائی میں حقیقی اور طویل وقفہ چاہتا ہے تاکہ ان لوگوں تک امداد پہنچ سکے جنہیں اس کی ضرورت ہے لیکن لوگوں کی مدد کرنے کا بہترین طریقہ جنگ کا خاتمہ ہے۔

بلنکن نے برسلز کے دورے کے دوران نامہ نگاروں کو بتایا، "اسرائیل نے اپنے لیے خود مقرر کردہ معیارات کے مطابق اپنے اہداف پورے کر لیے ہیں۔ اب یہ جنگ ختم کرنے کا وقت ہونا چاہئے۔"

غزہ میں انسانی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی غرض سے اسرائیل کو دی گئی 30 دن کی امریکی ڈیڈ لائن کی میعاد منگل کے روز ختم ہو گئی جس کے بعد واشنگٹن نے کہا، اسرائیل غزہ کے لیے امداد نہیں روک رہا اور اس لیے وہ امریکی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہا۔

آٹھ بین الاقوامی امدادی گروپوں نے کہا کہ اسرائیل امداد تک رسائی کو بہتر بنانے کے امریکی مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔ غذائی تحفظ کے ماہرین نے غزہ کے بعض حصوں میں قحط آنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

بائیڈن جن کی صدارت کی میعاد جنوری میں ختم ہو رہی ہے، نے سات اکتوبر کے بعد سے اسرائیل کی بھرپور حمایت کی ہے۔

تب سے اب تک غزہ میں 43,500 سے زائد فلسطینی جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں اور غزہ کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا ہے۔

اسرائیل کے کٹر حامی ٹرمپ نے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے حماس کو تباہ کرنے کے ہدف کی بھرپور حمایت کی ہے۔ انہوں نے شرقِ اوسط میں قیامِ امن کا وعدہ تو کیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ اسے کیسے پورا کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں