منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوان نمائندگان کے رکن مائیک والز کو قومی سلامتی کا مشیر اور پراپرٹی کے شعبے کے معروف سرمایہ کار اسٹیو وٹکوف کو مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کیا ہے۔
اسی طرح ٹرمپ نے امریکی نیشنل گارڈز کے سابق افسر اور فوکس نیوز چینل کے ایک پروگرام کے میزبان پیٹ ہیگستھ کو وزیر دفاع کے طور پر منتخب کیا ہے۔
ان افراد کے چناؤ کے حوالے سے تبصرے کے لیے فوجی امور کے مصری ماہر وار اسٹاف میجر جنرل اسامہ محمود نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹرمپ کا ذاتی ویژن جو اس بات کے گرد گھومتا ہے کہ حریف فریقوں سے مذاکرات کا معاملہ مالی امور سے متعلق ذہنیت کے حامل نمائندے کے حوالے کر دیا جائے ... اور آفت زدہ علاقوں کی تعمیر نو میں تیزی کے بارے میں ایک مربوط اور قابل توجہ مثبت تصویر پیش کی جائے۔ جہاں تک ان کے قومی سلامتی کے مشیر کے انتخاب کا تعلق ہے تو یہ بحر الکاہل کے علاقے اور جنوبی چین کے سمندر کے حوالے سے نئی حکمت عملیوں کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔
اسامہ محمود کے مطابق اسٹیو وٹکوف امریکا کی مختلف ریاستوں میں پراپرٹی ٹائیکون کی حیثیت رکھتے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی دوست ہیں۔ وہ غزہ کی پٹی، شمالی اسرائیل اور جنوبی لبنان میں لڑائی رک جانے کے بعد تعمیر نو کے کام میں اپنی مہارت کے ذریعے تیزی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
مصری ماہر نے واضح کیا کہ ٹرمپ کی جانب سے مائیک والز کا بطور مشیر قومی سلامتی چناؤ یہ ٹرمپ کی اپنی شخصیت کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی کا مظہر ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ والز بحر الکاہل کے علاقے اور جنوبی چین کے سمندر پر مکمل امریکی غلبے کو یقینی بنانے کے خواہاں ہیں۔ یہ بات ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کی پالیسیوں کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے جب انھوں نے چین سے درآمدات پر بھاری کسٹم ڈیوٹی عائد کر دی تھی۔
فوجی امور کے مصری ماہر کے مطابق غالب گمان ہے کہ ٹرمپ اور والز دونوں ہی چین کو تزویراتی طریقے سے جواب دینے کا عندیہ دینے پر متفق ہیں خواہ یہ مالی طور سے ہو یا عسکری طور سے، یہ بات جنوبی چین کے سمندر میں امریکا اور فلپائن کی مشترکہ فوجی مشقوں سے بھی واضح ہو چکی ہے۔ اسی طرح چین کے مقابل تائیوان کے لیے امریکی حمایت کا معاملہ بھی ہے۔
جہاں تک ایک ٹی وی پروگرام کے میزبان پیٹ ہیگستھ کو وزیر دفاع مقرر کرنے کی بات ہے تو اس حوالے سے مصری جنرل اسامہ محمود نے اسے بڑا معاملہ شمار کیا ہے۔ ان کے مطابق ہیگستھ کو شدت پسند قرار دیا جا سکتا ہے اور عراق، افغانستان اور گوانتانامو جیل میں ان کی خدمات محدود رہیں۔ تاہم ہیگستھ اور والز کے تقرر میں ربط ضروری ہے اور اس سے واشنگٹن کی آئندہ پالیسیوں اور حکمت عملیوں میں ہونے والی تبدیلی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔