کیا حماس یرغمالیوں کی رہائی کے مقابل غزہ سے نکلنے کا محفوظ راستہ قبول کر لے گی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کی جانب سے یہ تجویز پیش کیے جانے کے بعد کہ غزہ میں یرغمال افراد کی رہائی کے مقابل حماس کی قیادت اور عناصر کو غزہ سے نکلنے کے لیے محفوظ راستہ دیا جا سکتا ہے ،،، اب کئی اہم سوالات سامنے آئے ہیں :

· کیا حماس اس سمجھوتے کو قبول کر لے گی ؟

· کیا یہ تجویز نئی ہے یا یہ پہلے پیش کی جا چکی ہے ؟

· وہ کون سا ملک ہے جو غزہ سے نکلنے کے بعد حماس قیادت کو قبول کرے گا ؟

ان سوالات کے جواب میں فوجی امور کے مصری ماہر میجر جنرل ہیثم حسین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کی۔ ہیثم کے مطابق حماس تنظیم یہ سمجھوتا قبول نہیں کرے گی بلکہ یہ تجویز تو یحیی السنوار کی ہلاکت سے کافی عرصہ پہلے پیش کی جا چکی ہے، تنظیم نے اسے قبول نہیں کیا۔ حماس اپنے نقطہ نظر سے یہ اچھی طرح جانتی ہے کہ اس سمجھوتے پر آمادگی کا مطلب فلسطین کے قضیے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دینا ہے۔ اسی طرح سمجھوتا قبول کرنے کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ حماس کے جنگجو چین کی نیند سو سکیں گے بلکہ وہ جس ملک کا بھی رخ کریں گے وہاں ان کو نشانہ بنایا جائے گا۔

مصری ماہر کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو خود نہیں چاہتے کہ جنگ کا خاتمہ کسی سمجھوتے کے ذریعے ہو، ایسی صورت میں ان کی حکومت کو سقوط اور خود انھیں عدالتی کارروائی کا سامنا ہو گا۔ لہذا جنگ کا جاری رہنا ان کے منصب پر باقی رہنے کے مفاد میں ہے۔

واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کل بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں اپنے مقاصد حاصل کر چکا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ جنگ کو ختم کیا جائے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلنکن کا کہنا تھا کہ امریکا غزہ کی پٹی میں حقیقی جنگ بندی چاہتا ہے تا کہ وہاں ضرورت مند افراد تک امداد پہنچ سکے۔

بلنکن کے مطابق ان کے ملک نے قیدیوں کی آزادی کے مقابل حماس کے جنگجوؤں کو غزہ سے نکلنے کے لیے محفوظ راستہ دینے کی تجویز پیش کی۔

تاہم انھوں نے اس کی تفصیلات کا ذکر نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں