گذشتہ چند دنوں کے دوران کویت کے ساحل سمندر کے قریب اڑن طشتریوں کا مقابلہ کرنے کی امریکی کوشش کے مناظر نے سوشل میڈیا پرکویتی شہریوں کا رد عمل سامنے آیا ہے۔
کچھ لوگوں نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو شیئر کی جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ اس خلائی مخلوق کے ساتھ تصادم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس حوالے سے صارفین نے کئی سوالات بھی اٹھائے ہیں۔
گذشتہ جمعرات کو امریکی کانگریس کے ایک اجلاس کے بعد ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوا تھا جس میں کویت کے ساحل پر ایک اجنبی شے کی ظاہری شکل کو ریکارڈ کیاگیا تھا۔اسے محفوظ انٹرنیٹ پروٹوکول روٹنگ نیٹ ورک پر محفوظ کیا گیا تھا۔
دریں اثناامریکی صحافی مائیکل شیلنبرگر نے کونسل کے سامنے اپنے شواہد پیش کرنے کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ غیر متعینہ نہ مظاہر جو کہUAPS) ) کہلاتے یں اور انہیں UFOs کا نام بھی دیا جاتا ہے قابل اعتماد ذریعہ نے اس دوران دیکھے۔
پینٹاگان کی طرف سے پہلے جاری ہونے والی متعدد رپورٹس میں دریافت ہونے والی عجیب و غریب اشیاء کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی، جس میں اشارہ کیا گیا تھا کہ وہ "ایلین یا اڑن طشتری" ہیں۔
دریں اثنا ایک امریکی فوجی پائلٹ نے جنوری 2023ء میں دعوی کیا تھا اس نے فلوریڈا کے ساحل پر ایگلن ایئر فورس بیس پر کام کے دوران چار نامعلوم اشیاء دیکھی تھیں۔
انہوں نے اس وقت وضاحت کی کہ ان کے جہاز پر سوار ریڈار سسٹم نے دیکھا کہ چار اشیاء، جو کہ 5000 سے 6000 میٹر کی اونچائی پر تھیں نے ایک فوجی شکل اختیار کر لی تھی۔
اجنبی اشیا یا اڑن طشتریوں کے وجود کا مسئلہ ایک پریشان کن موضوع ہے۔ سائنس اس حوالے سےکسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام ہے۔