اسرائیلی حکام نے کسی بھی جنگ بندی معاہدے کے فریم ورک کے اندر لبنانی حزب اللہ پر حملہ کرنے کی آزادی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل کا یہ مطالبہ کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرنے کے لیے خطے میں ایک سینیر امریکی ایلچی کی موجودگی کی روشنی میں ممکنہ پیچیدگی پیدا کرتا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز اور وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی کی تجویز کے تحت حزب اللہ کی طرف سے کی جانے والی کسی بھی "خلاف ورزی" کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
کسی بھی معاہدے کے تحت حزب اللہ کے جنگجوؤں اور اسرائیلی زمینی افواج کو اقوام متحدہ کے بفر زون سے دور لے جایا جائے گا۔
جنگ بندی کے معاہدے پر پیش رفت کے آثار نظر آ رہے ہیں، لبنانی حکومت میں حزب اللہ کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے اس تجویز کا مثبت جواب دیا ہے۔
ساعر نے اسرائیل میں درجنوں غیر ملکی سفیروں سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہم جس بھی معاہدے پر پہنچیں گے۔ ہمیں اپنی آزادی کو برقرار رکھنا چاہیے اگر خلاف ورزیاں ہوتی ہیں۔ ہمیں بروقت کارروائی کرنے کا حق ہونا چاہیے‘‘۔
وزیرخارجہ یسرائیل کاٹز نے انٹیلی جنس افسران کے ساتھ ایک میٹنگ میں کہا کہ لبنان میں کسی بھی سیاسی تصفیے کے لیے شرط اسرائیلی فوج کا حق ہے کہ وہ "حزب اللہ سے اسرائیل کے شہریوں کو آپریشن اور تحفظ فراہم کرے"۔
لبنان اور اسرائیل کے لیے امریکی انتظامیہ کے ایلچی اموس ہاچسٹین حالیہ دنوں میں دونوں فریقوں کو ایک معاہدے کی طرف دھکیلنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس ہفتے انہوں نے لبنان میں حکام سے ملاقات کی اور بدھ کو کہا کہ وہ اسرائیل کا سفر کریں گے تاکہ تل ابیب کو بھی جنگ بندی پر قائل کیا جا سکے۔