میں ہمیشہ ٹرمپ سے متفق نہیں ہوتا... اسرائیل لبنان سے انخلا نہیں کرے گا : نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ بعض اوقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتے...اور انہوں نے لبنان میں سکیورٹی بفر زون میں فوج کی موجودگی برقرار رکھنے کی تصدیق کی ہے۔ یہ تبصرہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور تہران کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد ان کا پہلا رد عمل ہے۔

نیتن یاہو نے منگل کے روز ایک ٹیلی ویژن پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اور ٹرمپ شراکت دار ہیں، ہم بہت سے معاملات پر متفق ہیں اور کچھ معاملات پر اختلاف رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے لبنان میں ایک سکیورٹی بفر زون قائم کیا ہے اور ہم وہاں موجود رہیں گے... اور امریکہ اس معاملے میں ہمارے فیصلے کا احترام کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی اور شام میں بھی بفر زون میں تب تک رہے گی جب تک ضرورت پڑے۔

اسی طرح نیتن یاہو نے کہا کہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ہر ضروری اقدام کریں گے۔ انھوں نے ایرانی خطرے کو اسرائیل سے دور کرنے اور ایرانی "شر کا محور" توڑنے کا اشارہ دیا۔

یہ صورت حال ایسے وقت میں پیش آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز گروپ آف سیون کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے فرانسیسی شہر ایویان پہنچنے کے فوراً بعد کہا کہ امریکہ اور ایران نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کر دیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے پر مکمل طور پر دستخط ہو چکے ہیں اور آبنائے ہرمز پہلے ہی جزوی طور پر کھل چکا ہے۔

امریکہ اور پاکستانی ثالث نے اعلان کیا ہے کہ معاہدے پر دستخط جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں ہونا طے پایا ہے۔ ایک امریکی اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ ٹرمپ، ان کے نائب جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے متن پر الیکٹرونک طور پر دستخط کیے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ یہ معاہدہ جنگ کا فوری خاتمہ کرتا ہے اور وہ دو ماہ کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے بات چیت کریں گے۔

تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کے تئیں گہرے عدم اعتماد کا ذکر کیا، جس کی وجہ امریکی رہنماؤں کی جانب سے زیادتیوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ ابتدائی معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی کی شرط رکھی گئی ہے۔ اس کے برعکس اسرائیل جس سے ابتدائی معاہدے کے بارے میں مشاورت نہیں کی گئی تھی، نے کہا کہ وہ حزب اللہ کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے لبنان میں مداخلت کرنے کا اپنا حق محفوظ رکھتا ہے۔

معاہدے پر دستخط کی با ضابطہ تقریب آئندہ جمعہ کو جنیوا میں منعقد کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں