مصنوعی ذہانت: بیوٹی پراڈکٹس کی تشہیر کیلئے ڈاکٹروں کی آوازیں چرائی جانے لگیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی ڈاکٹروں کو ایک ایسے رجحان کا سامنا کرنا پڑا ہے جو پیشہ ورانہ اخلاقیات کی حدود سے باہر نکل کر ان کی شخصیتوں کو غلط اشتہارات میں استعمال کرنے کی طرف لے جارہا ہے۔ لوگوں نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ان ڈاکٹروں کی آوازوں کا استعمال کیا ہے۔ ڈاکٹروں نے بیوٹی پراڈکٹس کی تشہیر میں سنائی دینے والی اپنی آوازوں کو جعلی قرار دے دیا ہے۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ ان کے علم میں لائے بغیر ان کی آواز میں طبی مصنوعات کی تشہیر کی گئی۔ یہ رجحان اس دور میں مریضوں کی حفاظت اور صحت سے متعلق معلومات کی ساکھ کے لیے ایک خطرہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ رجحان سوشل میڈیا پر تیزی سے بڑھا ہے۔

بہت سے سعودی ڈاکٹروں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے توسط سے کچھ اشتہاری کمپنیوں کے طرز عمل پر تنقید کی جنہوں نے ادویات اور طبی تیاریوں کی نمائش کے لیے سوشل میڈیا پر ان ڈاکٹروں کی شناخت ظاہر کی۔ پراڈکٹس کے استعمال کے لیے سفارشات اور ہدایات پر مشتمل من گھڑت کلپس نے ڈاکٹروں حیران کردیا۔ ان کے علم میں لائے بغیر ان کے کسی بھی کلپس کا استعمال کرتے ہوئے ادویات اور طبی کریموں کی تشہیر کی گئی۔ ادویات اور علاج کو فروغ دینے کے مقصد سے آواز اور مواد میں ہیرا پھیری کی جارہی ہے۔

ڈاکٹر عبدالعزیز الراجحی کی طرف سے شائع کردہ ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں کاسمیٹک مصنوعات کے لئے ایک اشتہاری کلپ پھیل گیا جس کے شروع میں میرے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کا ایک کلپ سامنے آیا۔ اس میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہیرا پھیری کے بعد میری آواز کو ایسا ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا گیا جیسے میں ہی اس کی تشہیر کر رہا ہوں۔ اب اس ڈر سے کہ کچھ لوگ اس بات پر یقین کر لیں میں نے آپ کو خبردار کرنا پسند کیا ہے۔

ٹی وی انٹرویوز کا استحصال

کاسمیٹک کنسلٹنٹ ڈاکٹر مریع القحطانی کہتے ہیں کہ میں حیران تھا کہ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کا فائدہ اٹھایا گیا اور اسے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ایک اشتہار میں تبدیل کر دیا گیا تاکہ کسی ایک کریم کی تشہیر کی جا سکے۔ میرے وکیل اور میں نے دیکھا کہ وہ ویب سائٹ چین کی تھی اور پروڈکٹ پر آواز لگائی گئی تھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ فالوورز اشتہار سے دور ہو گئے اور بہت سے لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھ سے کہانی کے بارے میں پوچھا۔ اب کوئی ایسا ادارہ نہیں ہے جس پر ہم مقدمہ چلا سکیں کیونکہ مجرم نامعلوم ہے۔ اس نے کہا کہ میں نے وزارت صحت اور وزارت تجارت سے شکایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ ان پروڈکٹس کا مجھے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عوامی حق

اپنی طرف سے وکیل اور قانونی مشیر عبداللہ البرادی نے تصدیق کی ہے کہ اس کلپ کی تیاری اور اشاعت کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے دوسروں کو نقصان پہنچانے کا جرم سمجھا جاتا ہے۔ ایسے مجرم کو ایک سال تک قید اور ایک سال تک کی سزا دی جاتی ہے۔ انسداد سائبر کرائم قانون کے آرٹیکل تین کے مطابق پانچ لاکھ ریال تک کا جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔

تکنیکی وارننگ

سائبرسکیوریٹی اور ٹیکنالوجی کے ماہر فہد الدریبی نے اس بڑھتے ہوئے چیلنج پر روشنی ڈالتے ہوئے ان نامعلوم کمپنیوں کے خلاف خبردار کیا جو اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے دھوکہ دہی کے طریقے استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا یہ رجحان بڑھ رہا ہے کیونکہ نامعلوم چینی کمپنیاں اپنی کمتر مصنوعات کو سوشل میڈیا پر شائع کرتی رہتی ہیں۔ یہ کمپنیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کی پروڈکٹس مستند اور قابل شناخت ہیں اور معروف مشہور شخصیات یا ڈاکٹروں کی ویڈیوز کا استعمال کرتے ہوئے اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ایسی تشہیر کرتی ہیں جس سے مصنوعات کی صداقت کا غلط تاثر پیدا ہوتا ہے۔

ناظرین کو دھوکہ دینا

الدریبی نے کہا کہ ناظرین اگر توجہ دیں تو ویڈیوز میں چھیڑ چھاڑ کا پتہ لگا سکتے ہیں۔ ان میں ہونٹوں کی حرکت آواز سے مماثل نہیں ہوتی۔ یہ کمپنیاں بغیر کسی شناخت یا سرکاری ضمانت کے جعلی مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے سادہ لوح لوگوں کا استحصال کر رہی ہیں۔

ویب سائٹس کی بندش

تکنیکی ماہر عبداللہ السبع نے العربیہ نیٹ سے بات چیت میں کہا کہ یہ رجحان بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کا عمل ہے۔ یہ مشہور شخصیات اور ڈاکٹروں کی نقالی کرکے صارفین کو نشانہ بنانے کا ایک نیا طریقہ ہے۔ اس رویے کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومتی اداروں کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آڈیو ویژول میڈیا اتھارٹی کو ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا بھی جوابدہ ہونا چاہیے۔ ان پلیٹ فارمز پر سختی سے روک لگنی چاہیے اور ایسی چینی ویب سائٹس پر پابندی ہونی چاہیے جو مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے آواز میں تبدیلی کرکے مشہور شخصیات کی نقالی کر رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں