جمعہ 22 نومبر 1963 کو ڈیلاس میں امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کی 61ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ اس قتل کے 60 سال بعد بھی ان کے قتل کے حوالے سے سازشی نظریات پھیلے ہوئے ہیں۔ اس دن کے بارے میں کوئی بھی نئی معلومات امریکہ اور دنیا کے لاکھوں لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لیتی ہے۔ تاہم امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حالیہ صدارتی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوئے تو اس قتل سے متعلق تمام باقی سرکاری دستاویزات کو ظاہر کر دیں گے۔
ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت کے دوران بھی اسی طرح کا عہد کیا تھا لیکن آخر کار انہوں نے ایف بی آئی اور سی آئی اے کے دباؤ کے سامنے کچھ معلومات کو روکنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس قتل سے متعلق لاکھوں سرکاری دستاویزات میں سے اب تک صرف چند ہزار کا پردہ فاش ہوا ہے اور جن لوگوں نے اب تک بے نقاب ہونے والے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی ہے انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر باقی فائلوں کو ڈی کلاسیفائی کر دیا جائے تو بھی کسی چونکا دینے والے انکشاف کی توقع نہ رکھیں۔
اس تناظر میں کتاب "کیس کلوزڈ" کے مصنف جیرالڈ پوسنر، جس میں وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ قاتل لی ہاروی اوسوالڈ نے اکیلے کام کیا، نے کہا ہے کہ جو بھی کسی ایسے حتمی ثبوت کا انتظار کر رہا ہے جو اس کیس کو الٹا دے تو وہ انتہائی مایوس ہوگا۔ واضح رہے سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کی برسی جمعہ کو ڈیلی پلازہ میں ایک منٹ کی خاموشی کے ساتھ منائی گئی۔ ڈیلاس میں کینیڈی کو ان کی گاڑی کے قافلے کے گزرنے کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان کی یاد میں ہفتے بھر میں کئی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔