'مزید کوئی بہانہ نہیں': جوزپ بوریل کا اسرائیل پر لبنان جنگ بندی تجویز قبول کرنے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے منگل کو اسرائیل پر زور دیا کہ وہ لبنان جنگ بندی کے مجوزہ معاہدے کی حمایت کرے جس میں ان کے بقول اسرائیل کے لیے تمام ضروری حفاظتی ضمانتیں موجود ہیں۔

جی سیون وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد نہ کرنے کا کوئی بہانہ نہیں ہے۔ نیز انہوں نے کہا، اسرائیل پر آج ہی اس کی منظوری کے لیے دباؤ ڈالا جانا چاہیے۔

بوریل نے معاہدے کے خلاف بات کرنے والے سخت گیر اسرائیلی وزراء پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "آئیے امید کریں کہ آج نیتن یاہو امریکہ اور فرانس کی طرف سے تجویز کردہ جنگ بندی معاہدے کو منظور کر لیں گے۔ مزید کوئی بہانہ نہیں۔ مزید کوئی اضافی درخواستیں نہیں۔"

ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے بتایا، اسرائیل منگل کو حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے امریکی منصوبے کی منظوری دینے کے لیے تیار نظر آتا ہے۔

بوریل نے کہا کہ ایک اختلافی نکتہ یہ تھا کہ کیا فرانس کو جنگ بندی کے نفاذ کی نگران کمیٹی میں شامل کیا جائے جس کی سربراہی امریکہ کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے لبنان کے حالیہ دورے میں معاہدے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔

انہوں نے کہا، لبنانیوں نے خاص طور پر فرانس کی شمولیت کے لیے کہا لیکن اسرائیلیوں کو بدگمانی ہے۔

"یہ ان نکات میں سے ایک ہے جو بدستور موجود نہیں۔" انہوں نے کہا۔

بوریل نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی طرف سے غزہ تنازعہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں نیتن یاہو، ان کے سابق دفاعی سربراہ اور حماس کے رہنما کے وارنٹ گرفتاری پر مغرب کے دوہرے معیارات پر بھی تنقید کی۔

یورپی یونین کے رکن ممالک پر آئی سی سی کی حمایت کرنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "یہ نہیں ہو سکتا کہ جب عدالت (روسی صدر ولادیمیر) پوتن کے خلاف جائے تو آپ تعریف کریں اور جب عدالت نیتن یاہو کے خلاف جائے تو خاموش رہیں۔"

جی سیون کے صدر اٹلی نے پیر کو کہا کہ وہ آئی سی سی کے فیصلے پر گروپ کے لیے مشترکہ پوزیشن بنانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس پر پیش رفت مشکل ہے کیونکہ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا اور نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری کی مخالفت کرتا ہے۔

جی سیون گروپ میں امریکہ، اٹلی، فرانس، جرمنی، برطانیہ، کینیڈا اور جاپان شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں