معاہدے میں اسرائیل کے لیے نقل و حرکت کی کوئی آزادی نہیں: لبنانی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے بعد لبنان کے وزیر دفاع موریس سلیم نے کہا ہےکہ جنگ بندی معاہدے کے تحت ان کے ملک میں اسرائیل کے لیے نقل و حرکت کی آزادی نہیں۔

انہوں نے کہاکہ لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کے دوران اس کی نقل وحرکت کی کوئی شق موجود نہیں۔

انہوں نے آج بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس سے پہلے ایک بیان میں مزید کہا کہ جو معاہدہ طے پایا ہے وہ دونوں فریقوں کا اپنے دفاع کا حق ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنانی فوج معاہدے کے نفاذ کے لیے ہر ضروری کام کرے گی اور قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ اس میں شامل تمام اقدامات کی بنیاد ہوگی۔

جنگ بندی معاہدے پر مرحلہ وار عمل درآمد

لبنانی فوج کی تعیناتی کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کرنے کے وقت سے متعلق سوال کے جواب میں موریس سلیم نے کہا ہ "یہ وہ منصوبہ ہے جس پر آج کابینہ میں بحث کی جائے گی اور آرمی کمانڈر تمام مراحل پیش کریں گے"۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی لبنان میں فوج تعینات کی جائے گی اور اسے مرحلہ وار بڑھایا جائے گا۔

امریکی ضمنی پیغام

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران اسرائیل نے متعدد عہدیداروں کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متاثرہ فریق کو کارروائی کرنے کا حق حاصل ہے۔

اسرائیلی فوج نے آج بدھ کو اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فریق کے خلاف کارروائی کرے گی۔ معاہدے کا ابتدائی دورانیہ ساٹھ دن ہےجس میں مزید توسیع ہوگی۔

دریں اثنا میڈیا ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ایک ضمنی امریکی پیغام میں اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کے مطابق لبنانی سرزمین سے آنے والے خطرات کا جواب دینے کے حق کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں خلاف ورزیوں کے خلاف کسی بھی وقت کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے کل شام لبنان میں 13 نکاتی جنگ بندی معاہدے کی منظوری دی تھی۔

معاہدے کی سب سے نمایاں شق 60 دن کی مدت کے لیے تصادم کو روکنا ہے، جس کے دوران اسرائیلی افواج بتدریج ان سرحدی شہروں سے پیچھے ہٹ جائیں گی جن میں وہ داخل ہوئی تھی۔

انہوں نے مسلح گروہوں کے انخلاء اور لبنانی فوج کے ساتھ جنوب سے تمام ہتھیاروں کے خاتمے کا بھی عندیہ دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں