امریکا اور یوکرین کے وزرائے دفاع کا کہنا ہے کہ انھوں نے روس کی جانب سے نئے بیلسٹک میزائلوں کے استعمال، یوکرین کے لیے ہتھیاروں کے لیے عطیہ کنندگان کے آئندہ اجلاس اور واشنگٹن کی جانب سے یوکرین کو پیش کی جانے والی فوجی امداد کے منصوبوں پر بات چیت کی ہے۔
اس سے قبل پیر کے روز امریکا نے یوکرین کے لیے فوجی امداد دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس پیکج میں میزائل، گولہ بارود، انسانوں کو ہلاک کرنے والی بارودی سرنگیں اور دیگر اسلحہ شامل ہے۔ پیکج کی مجموعی قیمت 72.5 کروڑ ڈالر ہے۔
امریکی وزارت دفاع "پینٹاگان" کے ترجمان میجر جنرل پیٹرک رائیڈر نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ "وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے روس کی جانب سے یوکرین میں شہری بنیادی ڈھانچے پر میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے حملے اور یوکرین میں درمیانی مار والے بیسلٹک میزائلوں کے استعمال کی مذمت کی ہے ... یہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں ایک اور جارحیت کی حیثیت رکھتی ہے"۔
آئندہ ماہ 20 جنوری کو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی یوکرین کے حوالے سے امریکی حکمت عملی میں تبدیلی کا امکان ہے۔ اس کے سبب کئیف حکومت کو تشویش لاحق ہو گئی ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے آئندہ پیش کی جانے والی امداد کا حجم بڑی حد تک کم ہو جائے گا۔ امریکا اس وقت روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کا سب سے بڑا سپورٹر ہے۔
یوکرین کے وزیر دفاع کے مطابق آسٹن سے ملاقات میں ریمشٹائن گروپ کے آئندہ اجلاس کی تیاریوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ یہ گروپ نیٹو اتحاد، یورپی یونین اور یوکرین کو سپورٹ کرنے والے ممالک پر مشتمل ہے۔
یوکرین کے میڈیا کے مطابق اجلاس رواں ماہ دسمبر میں منعقد ہو سکتا ہے۔ غالبا یہ ٹرمپ کے منصب سنبھالنے سے قبل کئیف حکومت کے اتحادیوں کا آخری اجلاس ہو گا۔
یوکرین کے لیے فوجی سپورٹ کے نئے پیکج کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ اینٹی بلنکن نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ نئے پیکج میں انسانوں کو نقصان پہنچانے والی زمینی بارودی سرنگیں، ہیمارس اور اسٹنگر میزائل چلانے والے لانچنگ پیڈز میں استعمال ہونے والے لوازمات، ڈرون حملوں کے خلاف استعمال ہونے والا نظام، بکتر بند شکن ہتھیار اور توپوں کے گولے شامل ہیں۔
گذشتہ ماہ امریکا کی جانب سے یوکرین کے لیے انسانوں کو نقصان پہنچانے والی بارودی سرنگوں کے اعلان کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے پر تنقید کی تھی۔ امریکی وزیر دفاع نے اس کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ روسی افواج گاڑیوں کے بدلے پیدل دستوں کے ساتھ پیش قدمی کر رہی ہے۔
اتوار کے روز یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی نے کہا تھا کہ ان کے ملک کو روس کے ساتھ کسی بھی بات چیت سے پہلے نیٹو اتحاد کی جانب سے سیکورٹی ضمانتوں اور دفاع کے لیے مزید ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ واشنگٹن کئیف حکومت کا مرکزی سپورٹر ہے۔ فروری 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے آغاز کے بعد سے اب تک واشنگٹن یوکرین کے لیے 60 ارب ڈالر سے زیادہ کی فوجی امداد مختص کر چکا ہے۔