ایران پر بڑے حملے پر غور، ٹرمپ کا سچویشن روم میں اہم اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم (Situation Room) میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں ایران کے خلاف موجودہ کارروائیوں سے کہیں زیادہ وسیع فوجی حملے کے امکان پر غور کیا گیا۔

ایکسيوس (Axios) کے مطابق اس معاملے سے آگاہ تین ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ ایران پر فوجی دباؤ بڑھانے کے حق میں ہیں تاکہ تہران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اپنے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا، جب ایران پر امریکی حملوں کا مسلسل چوتھا روز تھا۔ اس دوران امریکی افواج نے آبنائے ہرمز اور ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق حملوں میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات، جہاز شکن میزائلوں کے اڈے اور ڈرون لانچنگ پلیٹ فارم شامل تھے، جن کا مقصد ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے کی صلاحیت کو کمزور کرنا بتایا گیا ہے۔

دوسری جانب ایران نے اردن، کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی جانب میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا، جبکہ منگل کے روز ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی بھی باضابطہ طور پر نافذ ہو گئی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ایران نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سات تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ان کے شہری عملے کے تقریباً 12 افراد ہلاک، زخمی یا لاپتا ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان حملوں کے باوجود امریکی بحریہ نے اسی عرصے کے دوران تقریباً 300 تجارتی جہازوں کی آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کو یقینی بنایا۔

ایران کے اسٹریٹجک اہداف پر تباہ کن حملوں کی منصوبہ بندی

وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والے اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، صدارتی ایلچی اسٹیو وٹکوف سمیت قومی سلامتی کے کئی اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایران کے اندر اہم اسٹریٹجک تنصیبات پر تباہ کن حملوں کے نئے منصوبوں پر غور کیا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز کے اطراف جاری فوجی کارروائیاں بھی جاری رکھنے پر تبادلۂ خیال ہوا۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے اس اجلاس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اجلاس سے قبل فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ آئندہ چند روز میں ایران پر امریکی حملوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا۔

ان کے بقول امریکی افواج اگلے تین دنوں میں ایران پر بھرپور حملے کریں گی، جس کے بعد کارروائیوں میں مزید شدت لائی جائے گی۔

ٹرمپ نے کہا:اگلا ہفتہ ایران کے لیے بہت برا ہوگا، کیونکہ ہم اس کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے۔ اگر وہ مذاکرات کی میز پر واپس نہ آئے تو ہم ان کے تمام بجلی گھر اور تمام پل تباہ کر دیں گے۔

مشتبہ سرگرمی پر نظر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن ''جبل پیکاکس'' میں ہونے والی اس سرگرمی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جسے انہوں نے ''مشتبہ سرگرمی'' قرار دیا۔

ان کے مطابق یہ زیرِ زمین گہرائی میں واقع ایک مقام ہے، جس کے بارے میں امریکا اور اسرائیل کا خیال ہے کہ اسے ایران کے جوہری پروگرام میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور امکان ہے کہ یہ روایتی فضائی حملوں سے محفوظ ہو۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بنکر بسٹر (Bunker Buster) بم انتہائی گہرائی تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن کے پاس اس مقام پر جوہری سرگرمیوں کے جاری ہونے کا کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں۔

انہوں نے کہا:اگر ہمیں وہاں معمولی نوعیت کی سرگرمی بھی نظر آئی تو ہم اسے پوری طاقت سے نشانہ بنائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ان کے نمائندوں نے منگل کے روز ایرانی حکام سے بات چیت کی اور انہیں مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا پیغام دیا۔ ان کے بقول میں نے ان سے کہا کہ بہتر ہے معاہدہ کر لیں، ورنہ آپ کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں