نیٹو کو تخریب کاری اور خطرناک سائبر حملوں کا خدشہ
برسلز میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ شمالی بحر اوقیانوس کے ممالک کی تنظیم (نیٹو) نے اتحاد کی سرزمین پر تخریب کاری کی نئی کارروائیوں اور خطرناک سائبر حملوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
اہلکار نے کہا کہ روس خاص طور پر ’نیٹو‘ کے رکن ممالک میں تخریب کاری کے ذریعے جانوں کو نقصان پہنچانے یا خطرے میں ڈالنے کے لیے زیادہ تیار نظر آتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین، ایران اور شمالی کوریا بھی سائبر حملے کرنے میں سرگرم ہیں۔
اہلکار نے کہا کہ ماسکو کی طرح بیجنگ بھی میلویئر پھیلانے کے لیے ایک مہم چلا رہا ہے۔ اس کا مقصد جاسوسی کی سرگرمیاں انجام دینا ہے۔ اس کے علاوہ اگر تناؤ بڑھتا ہے تو اس کے پاس بدامنی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔
اہلکار کے مطابق روس خاص طور پر اہم انفراسٹرکچر، خاص طور پر صنعتی کنٹرول سسٹم کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اہلکار نے نیٹو کے رکن البانیہ پر ممکنہ طور پر ایران کی طرف سے کیے گئے ایک بڑے حملے کی مثال دی، جس نے سرحدی کنٹرول کا نظام درہم برہم کر دیا گیا۔ سائبر حملے کے بعد وزارت داخلہ کی فائلیں بھی آن لائن شائع کی گئیں۔
اہلکار نے وضاحت کی کہ حملے کے بعد سب کچھ پبلک کر دیا گیا جس میں پولیس فائلیں، افسران کے درمیان ای میلز، خفیہ سرٹیفکیٹ اور انٹرپول فائلیں شامل ہیں۔