جیسا کہ گزشتہ کئی اقوام متحدہ یا بین الاقوامی اجلاسوں سے رواج چل رہا ہے، اسی طرح مالٹا میں آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن ان یورپ (او ایس سی ای ) کے اجلاس کے دوران متعدد ممالک کے نمائندوں نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی تقریر کے دوران پیچھے ہٹنے کی کوشش کی ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے اپنی تقریر میں جمعرات کو مغرب پر الزام لگایا کہ مغرب ایک نئی سرد جنگ کو ہوا دے رہا ہے جو بہت گرم ہو سکتی ہے۔ اس دوران پولینڈ اور یوکرین کے وزرائے خارجہ نے ہال سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔
لاوروف نے تنظیم کے اجلاس میں شریک 57 ممالک کے نمائندوں، جن میں اکثریت یوکرین پر روسی حملے کی مذمت کرنے والے ممالک کی تھی، سے کہا کہ افغان تباہی (2021 میں فوجی انخلا) کے بعد سیاسی منظر نامے پر نیٹو کی واپسی کے لیے ایک متحد دشمن کی ضرورت تھی لیکن یاد رہے اب اس سرد جنگ کے گرم جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے اپنی تقریر کے دوران اپنے روسی ہم منصب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ گمراہ کن معلومات پھیلانے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے لاوروف کے ہال سے چلے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ ہمارے ساتھی مسٹر لاوروف ہال سے باہر چلے گئے اور ہمیں یہ شرف نہیں بخشا کہ ہماری بات اسی طرح سنی جائے جیسا جیسا کہ ہم نے ان کی بات سنی تھی۔
واضح رہے ہمسایہ ملک یوکرین کی سرزمین پر روسی حملے کے بعد سے ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ واشنگٹن نے روسیوں پر سیکڑوں پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان پابندیوں سے روس کے بہت سے شعبے متاثر ہوئے ہیں۔ روس اور نیٹو نے بھی الزامات اور تنقید کا تبادلہ کیا۔ دفاعی اتحاد نے سیاسی اور عسکری طور پر وسیع پیمانے پر کیف کی حمایت کی۔