حمص کے شمالی دیہی علاقوں پر مسلح دھڑوں کے قبضے کے بعد شام کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ فوج کے یونٹوں نے حمص کے شمالی دیہی علاقوں میں مخصوص نوعیت کا آپریشن کیا ہے۔ شامی وزارت دفاع نے اپنے فیس بک پیج پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ شامی مسلح افواج نے شمالی حمص کے دیہی علاقوں میں
الدار الکبیرہ، تلبیسہ ، الرستن کی طرف ایک آپریشن کیا ہے جس میں شامی روسی ایئرفورسز اور توپ خانے نے مشترکہ کارروائی کی۔ میزائیل اور بکتر بند گاڑیوں نے بھی آپریشن میں حصہ لیا۔ شامی وزارت دفاع نے مزید بتایا کہ درجنوں دہشت گردوں کو ختم کردیا گیا۔ ان کی صفوں میں خوف و ہراس کنفیوژن پھیلا دیا گیا۔ بڑی تعداد میں ان کی گاڑیاں، سازوسامان اور ہتھیاروں کو تباہ کر دیا گیا۔
کئی محور
دوسری جانب مسلح گروپوں کے عسکری کارروائیوں کے شعبے، جس میں ’’ھیئہ تحریر الشام‘‘ بھی شامل ہے، نے کہا ہے کہ ہماری افواج وسطی شام میں حمص شہر کے مضافات میں پہنچ گئی ہیں۔ دوسری طرف سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے ’’العربیہ‘‘ کو بتایا ہے کہ حمص میں لڑائی کے محاذ کئی محور پر ہوں گے۔ آبزرویٹری نے کہا کہ مسلح دھڑے ابھی تک حمص شہر میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔
شام میں اموات 800 سے زیادہ
واضح رہے ھیئہ تحریر الشام اور ترکیہ کے حمایت یافتہ اس کے اتحادی گروپوں نے 27 نومبر کو اپنے مضبوط گڑھ ادلب سے ملک کے شمال مغرب کی جانب حملہ شروع کیا تھا۔ آبزرویٹری کے مطابق ان لڑائیوں میں اب تک 800 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان مسلح گروپوں نے شامی فوج کے 65 سے زائد فوجیوں اور افسران کو مار ڈالنے کا اعلان کیا ہے۔