ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شامی صدر بشار الاسد کی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان سیاسی بات چیت کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ اپوزیشن گروپوں کی طرف سے شروع کیے گئے غیر معمولی حملے اور کئی علاقوں پر قبضے کے تناظر میں انہوں نے کہا شامی حکومت اور اپوزیشن کو سیاسی مذاکرات کرنا ہوں گے۔ دوحہ میں ماسکو، انقرہ اور تہران کے درمیان ملاقات کے دوران عباس عراقچی نے مزید کہا کہ شام کی حکومت اور اپوزیشن گروپوں کے درمیان سیاسی مذاکرات کا آغاز ہونا چاہیے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے ترک اور ایرانی ہم منصبوں نے کہا کہ انہوں نے دوحہ میں ہونے والی ملاقات میں شام میں دشمنی کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماسکو شامی حکومت اور جسے وہ شام میں جائز اپوزیشن کہتے ہیں کے درمیان بات چیت دیکھنا چاہتا ہے۔
لاروف نے نقطہ نظر تبدیل کرنے یا نہ کرنے دونوں صورتوں میں "ھیئہ تحریر الشام" گروپ کو دہشت گرد قرار دے دیا اور کہا شام کی سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کو کنٹرول کرنے کی اجازت دینا ناقابل قبول ہے۔ جب پوچھا گیا کہ شام میں حالات کس طرح آگے بڑھیں گے اور وہاں روسی فوجی اڈوں کا کیا ہوگا تو لاوروف نے کہا کہ اندازوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ صدر بشار الاسد کی قسمت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ انہوں نے جمعہ کی شام عراقی چینلز کو بیانات میں مزید کہا کہ جس چیز کو انہوں نے مزاحمت قرار دیا وہ اپنا فرض ادا کرے گا۔
ایران، ترکیہ اور روس کے وزرائے خارجہ نے شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے دوحہ میں ایک اجلاس شروع کیا۔ شام میں حالیہ دنوں میں حکومتی فورسز کی پسپائی کے ساتھ حزب اختلاف کے مسلح دھڑوں نے کئی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ تینوں ممالک آستانہ فارمولے میں شریک ہیں۔ یہ برسوں پہلے شام میں ہتھیاروں کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش میں شروع کیا گیا تھا۔