العربیہ ٹیم دمشق میں رفیق حریری کے ضبط شدہ گھرکے سامنے پہنچ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی 14 فروری 2005ء کو قتل کیے جانے والے لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کا نام دوبارہ منظر عام پر آگیا۔

العربیہ شام کے دارالحکومت دمشق کے وسط میں ابو رمانہ محلے میں حریری کے گھر کے سامنے نمودار پہنچ گئی۔ پچھلی حکومت نے سیاسی وجوہات کی بناء پر یہ مکان ضبط کر کے سرکاری املاک میں تبدیل کر دیا تھا۔

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق آج حکومت کے خاتمے کے بعد ہزاروں املاک کی ضبطی کی فائلیں دوبارہ کھول دی گئی ہیں۔ جب کہ بہت سے شامی شہری اپنی جائیدادوں کی واپسی کا مطالبہ کرنے کے لیے اپنے شناختی کاغذات ترتیب دینےمیں سرگرم ہیں۔

قتل سے پہلے جھگڑا ہوا

قابل ذکر ہے کہ رفیق حریری کے قتل سے قبل اس وقت کے لبنانی صدر امیل لحود کی جانب سے مدت ملازمت میں توسیع کی وجہ سے حریری اور الاسد کے درمیان تنازعات بھڑک اٹھے تھے۔

دو ستمبر 2004ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بین الاقوامی قرارداد نمبر 1559 جاری کی جس میں لبنان میں باقی تمام غیر ملکی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا، تمام لبنانی اور غیر لبنانی ملیشیاؤں کو تحلیل اور تخفیف اسلحہ کا مطالبہ کیا گیا، اور لبنانی حکومت کے کنٹرول میں توسیع کی گئی۔

پھر 3 اکتوبر 2004ء کو رفیق حریری کی سربراہی میں حکومت نے صدر امیل لحود کی مدت ملازمت میں توسیع کی منظوری دی۔

اگرچہ حریری نے اس کی مخالفت کی لیکن اس نے شامی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔

حریری نے بھی اقوام متحدہ کی قرارداد کی کھلی حمایت کی۔

قابل ذکر ہے کہ شامی فوج 1976ء میں خانہ جنگی کو روکنے میں مدد کے لیے عرب افواج کے حصے کے طور پر لبنان میں داخل ہوئی تھی۔

لیکن یہ لڑائیوں میں ایک فعال فریق میں تبدیل ہو گئی۔ دمشق لبنان کی سیاسی زندگی پر کنٹرول کرنے لگا۔ 2005ء تک حریری کے قتل کے بعد عوامی دباؤ کے تحت لبنان سے اس کی افواج کے انخلاء کاعمل شروع ہوا۔ حریری کے ایک بم دھماکے میں قتل کے پیچھے بھی شامی فوج کے ملوث ہونے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں