شام کی تقسیم کو مسترد کرتے اور ایک جامع حکومت کا مطالبہ کرتے ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک طرف شام میں دارالحکومت دمشق میں نئی سیاسی انتظامیہ کے سربراہ احمد الشرع نے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں عبوری مرحلے کی خصوصیات کا خاکہ پیش کیا ہے تو دوسری طرف ایران نے دوبارہ ایک جامع حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کردیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم ایک ایسی حکومت کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں جس میں تمام شامی فریق شامل ہوں۔

انہوں نے سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ شام کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری اور تقسیم کو مسترد کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے شام کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر زور دیا۔ انہوں نے عبوری انتظامیہ پر زور دیا کہ تمام قومیتوں اور فرقوں کا احترام کیا جائے اور ان کے حقوق کی ضمانت دی جائے۔ اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے شامی زمینوں پر اسرائیلی قبضے کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

گزشتہ چند دنوں میں دمشق اور تہران کے درمیان زبانی کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ خاص طور پر سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی قیادت میں ایرانی حکام کے اس خیال کے بعد کہ شام میں "مزاحمت" دوبارہ نمودار ہوگی۔ اس بیان کو دمشق نے اندرونی معاملات میں صریح مداخلت اور تنازعات کو ہوا دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ احمد الشرع نے اتوار کو ’’ العربیہ‘‘ چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا تھا کہ نیا شام علاقائی یا مغربی ممالک کے ساتھ کسی قسم کی کشیدگی کا خواہاں نہیں ہے بلکہ وہ ایران سمیت ہر کسی کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔

یاد رہے تہران نے خانہ جنگی کے سالوں میں بشار الاسد کی بھرپور حمایت کی اور اس وقت شام کی مسلح افواج کی حمایت کے لیے ہزاروں جنگجو بھیجے تھے جن میں حزب اللہ کے ارکان بھی شامل تھے۔ لیکن 8 دسمبر کو بشار الاسد کے زوال کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ ایران نے ایک اہم اتحادی اور لبنان میں حزب اللہ کو ہتھیاروں کی سمگلنگ کے لیے ایک اہم زمینی گزرگاہ کھو دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں