روس : حکومت اور سیبر بنک چین کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے میدان میں تعاون بڑھائے : پوتن
روس کے صدر ولادی میر پوتن نے حکومت اور روس کے سب سے بڑے بنک 'سبیر بنک ' کو حکم دیا ہے کہ چین کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے شعبےمیں تعاون میں اضافہ کیا جائے۔
صدر کی طرف سے جاری کردہ یہ ہدایت بدھ کے روز کریملن کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع کی گئی ہے۔ یہ ہدایت روس کےاس اعلان کے تین ہفتے بعد بعد سامنے آئی ہے جو 'برکس' کے رکن ممالک کے ساتھ مصنوعی ذہانت روسی شراکت دار ممالک کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے میدان میں مل کر کام کرنے کے حوالے سے کیا گیا تھا۔
بدھ کے روز سامنے آنے والی ہدایت میں چین کے ساتھ تحقیقی و تکنیکی شعبے کی ترقی میں تعاون کو مزید بڑھانے کا مطلب ہے کہ تین ہفتے پہلے ' برکس ' کے بارے میں کیا گیا اعلان اب عملی شکل پارہا ہے۔
واضح رہے امریکہ اور مغربی ملکوں کی طرف سے روس کے خلاف پابندیوں کا مطلب روس کو سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی و ایجادات سے روکنا ہے۔ جیسا کہ کئی دوسرے ملکوں کے خلاف پابندیاں کی امریکہ و یورپ اسی وجہ سے لگاتے رہتے ہیں کہ ان کے ہاں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی محدود تر رہے۔ لیکن روس نے اس سلسلے میں ' برکس ' ممالک کے ساتھ مل کر ان پابندیوں کا توڑ کرنے کی کوشش کی ہے۔
مغربی ملکوں کی عاید کردہ پابندیوں کا مقصد روس ان ٹیکنالوجیزمیں بھی پسماندہ کرنا ہے جو یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال ہو کر روسی فتح کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔
مغربی و امریکی پابندیوں کی وجہ سے مائیکرو چپس بنانے والے بڑے اداروں نے روس کے لیے برآمدات روک دی ہیں۔ یہ پیش رفت روس کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے ہیں۔
روس کے سیبر بنک کے سربراہ نے 2023 میں یہ تسلیم کیا تھا کہ گرافکس پروسیسنگ یونٹس کی ترقی روس کے لیے مصنوعی ذہانت کے مائیکرو چپس کی دستیابی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس کے بعد امریکہ اور مغربی ملکوں کی پابندیوں نے روسی چیلنج میں اضافہ کر دیا۔
اب روس اپنے غیریورپی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ذریعے 21 صدی کی سب سے امید افزا اور مفید ٹیکنالوجیز کو اپنے لیے آسان بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاکہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں اپنے چیلنج کم کر سکے۔
روسی صدر پوتن کی طرف سے 11 دسمبر 2024 کو یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ روس 'برکس ' اور دیگر دلچسپی رکھنے والے ممالک کے ماہرین کو مصنوعی ذہانت کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم پر لائے گا۔
روس مصنوعی ذہانت کے میدان میں دنیا کے 83 ملکوں میں 31 ویں نمبر پر ہے۔ نہ صرف یہ کہ روس امریکہ اور چین وغیرہ سے بہت پیچھے ہے بلکہ روس برکس ممالک بھارت اور برازیل سے بھی پیچھے ہے۔
-
روس اور یوکرین کے درمیان متحدہ عرب امارات کی ثالثی میں 300 جنگی قیدیوں کا تبادلہ
مختلف مواقع پر تبادلوں میں یوکرین کے تقریباً چار ہزار قیدی واپس آئے
بين الاقوامى -
یورپ کو یوکرین کے راستے روسی گیس کی ترسیل روک دی گئی
سال نو کے پہلے روز آج بدھ کی صبح یوکرین کے راستے یورپ جانے والی پائپ لائنوں کے ...
بين الاقوامى -
پولینڈ : یوکرین کے راستے روسی گیس کی ترسیل کا رکنا 'نئی فتح' قرار
پولینڈ نے یوکرین کے راستے روسی گیس کی ترسیل کے خاتمے کو 'نئی فتح' کے طور پر قرار ...
بين الاقوامى