امریکہ نے روسی انرجی سیکٹر سے منسلک آئل ٹینکرز اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں

180 سے زیادہ آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا، دو بڑی کمپنیوں اور ان سے منسلک 20 کمپنیوں پر بھی پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ نے صدر جو بائیڈن کی مدت ملازمت ختم ہونے سے چند روز قبل روس کے انرجی سیکٹر کے خلاف وسیع پابندیوں کا اعلان کردیا۔ 180 سے زائد بحری جہاز اور دو بڑی تیل کمپنیوں پرپابندی لگائی گئی۔ برطانیہ نے بھی روسی تیل کے شعبے پر ایسی ہی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ پابندیاں روسی توانائی کی آمدنی کو کم کرنے کے G7 کے وعدے کو پورا کر رہی ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ روسی توانائی کے شعبے پر اب تک کی سب سے بڑی پابندیاں ہیں۔ مجموعی طور پر امریکہ نے نام نہاد "گھوسٹ فلیٹ" کے اندر موجود 183 آئل ٹینکر بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کیں۔ پابندی کی زد میں آنے والے بحری جہازوں میں سے کئی پر بارباڈوس اور پاناما کا پرچم لہراتے ہیں۔

پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں روس میں تیل کی تجارت اور تیل کے شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ خاص طور پر ’’ گاز بروم نیفٹ‘‘ اور سورگوت نیفٹ‘‘ اور ان کے ساتھ منسلک 20 سے زیادہ کمپنیوں کو پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی حکام نے وضاحت کی ہے کہ ان اقدامات کا مقصد یوکرین اور روس کے درمیان "منصفانہ امن" کے لیے ثالثی میں مدد کے لیے امریکہ کو اضافی اثر و رسوخ فراہم کرنا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ جینٹ ییلن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ یوکرین کے خلاف اپنی وحشیانہ اور غیر قانونی جنگ کو فنڈ دینے کے لیے روسی آمدنی کے اہم ذرائع کے خلاف جامع اقدامات کر رہا ہے۔۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے اقدامات کے ساتھ ہم روسی تیل کی تجارت سے منسلک پابندیوں کے خطرے میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اس میں جہاز رانی اور روسی تیل کی برآمدات کو سپورٹ کرنے کے لیے مالی سہولیات بھی شامل ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے جمعے کے روز پیش گوئی کی کہ نئی پابندیوں سے روس کو ماہانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوگا۔ روس پابندیوں کو روکنے کے لیے اپنی پوری کوشش کرے گا لیکن ایسا کرنے سے اس پر لاگت آئے گی۔

اس سے قبل رائٹرز نے امریکی محکمہ خزانہ سے منسوب ایک دستاویز کا حوالہ دیا جو یورپ اور ایشیا کے تاجروں کے درمیان گردش کر رہا تھا کہ امریکہ روسی تیل کے شعبے پر اب تک کی سخت ترین پابندیاں عائد کرے گا۔ ان پابندیوں سے تیل کی عالمی قیمتوں میں چار سے زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ پابندیوں میں تقریباً 180 آئل ٹینکرز، تجارتی کمپنیاں، دو بڑی تیل کمپنیاں اور روسی تیل کے شعبے کے کچھ سینئر ایگزیکٹوز شامل ہیں۔ پابندیوں کی رپورٹوں نے تیل کی عالمی قیمتوں کو 80 ڈالر فی بیرل سے اوپر دھکیل دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں