منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں دنیا کی تین امیر ترین شخصیات شرکت کریں گی۔ یہ تین افراد ایلون مسک، جیف بیزوس اور مارک زکربرگ ہیں۔ یہ بات تقریب کی انتظامی منصوبہ بندی میں شریک ایک ذمے دار نے امریکی چینلNBC نیوز کو بتائی۔ تقریب میں ان تینوں افراد کے لیے نمایاں جگہ ہو گی جہاں وہ اسٹیج پر دیگر اہم مہمانوں کے ساتھ اکٹھے بیٹھیں گے۔ اسی اسٹیج پر ٹرمپ انتظامیہ میں سرکاری عہدوں کے لیے نامزد اور منتخب عہدے داران بھی موجود ہوں گے۔
تینوں شخصیات کی ضخیم ٹکنالوجی کمپنیوں نے گذشتہ برس ٹرمپ سے دوستانہ تعلق استوار کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ ٹیسلا کمپنی کے مالک ایلون مسک نے ٹرمپ کی انتخابی مہم میں معاونت کے لیے 25 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رقم عطیہ کی۔
میٹا کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے رواں ماہ اپنے پلیٹ فارموں پر مواد کی ترمیم کی پالیسیوں کو از سر نو مرتب کیا تا کہ آئندہ ریپبلکن انتظامیہ کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکے۔ کمپنی نے ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب کے لیے خصوصی فنڈ میں 10 لاکھ ڈالر کا عطیہ بھی دیا۔
ایمازون کمپنی کے مالک اور چیف ایگزیکٹو جیف بیزوس نے جو واشنگٹن پوسٹ اخبار کے مالک بھی ہیں، گذشتہ موسم خزاں میں فیصلہ کیا تھا کہ اخبار امریکی صدارتی انتخابات میں کسی امیدوار کی حمایت نہیں کرے گا۔ انھوں نے اخبار کے ملازمین کی رائے کو نظر انداز کر دیا جو ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس کی تائید کا ارادہ رکھتے تھے۔ اسی طرح ایمازون نے ٹرمپ کی حلف برداری کے فنڈ میں 10 لاکھ ڈالر کا عطیہ دیا۔
مذکورہ تینوں افراد کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔ ان میں ایلون مسک پہلے، جیف بیزوس دوسرے اور مارک زکربرگ تیسرے نمبر پر ہیں۔ بلومبرگ انڈیکس کے مطابق ان تینوں افراد کی مجموعی خالص دولت کا حجم 885 ارب ڈالر ہے۔
ٹکنالوجی کے ان رہنماؤں کو ٹرمپ کی دوسری مدت کے دوران میں اہم مسائل درپیش ہوں گے۔ اس حوالے سے نہ صرف یہ کہ ٹیکس اور تجارتی پالیسی میں تبدیلیاں ہو سکتی ہیں بلکہ ان افراد کے کاروبار سے متعلق مسائل بھی موجود ہیں۔