منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ان کی حلف برداری اور منصب سنبھالنے کی تقریبات کا سرکاری شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ تقریبات 20 جنوری سے دارالحکومت واشنگٹن میں تین روز تک جاری رہیں گی۔ ان سرگرمیوں میں روایتی فوجی پریڈ اور مشہور خاتون گلوکارہ کا نغمہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ "کینڈل لائٹ" میں صدر اور خاتون اول کے ہمراہ خصوصی عشائیے کے لیے ٹکٹ کی قیمت دس لاکھ ڈالر رکھی گئی ہے۔
امریکا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حلف برداری کی تقریب میں دعاؤں اور تقاریر بھی شامل ہوں گی جن کا اہتمام امام، پادری اور حاخام کریں گے۔ امریکی میڈیا ویب سائٹس کے مطابق مشی گن ریاست کے شہر Dearborn میں واقع "کربلا مرکز برائے اسلامی تعلیمات" کے ڈائریکٹر شیعہ امام ہشام الحسینی حلف برداری کی تقریب میں خطاب کریں گے۔ اگرچہ الحسینی عراقی امریکی کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہیں تاہم ناقدین نے ان کے سابقہ بیانات کو اسرائیل معاند اور شدت پسندی پر مبنی قرار دیا تھا۔
سال 2007 میں فوکس نیوز چینل کے پروگرامHannity میں خصوصی گفتگو کے دوران میں جب میزبان 'شون ہینیٹی' نے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم تسلیم کرنے کے لیے علی الحسینی پر دباؤ ڈالا تو شیعہ امام نے اس کو مسترد کر دیا۔ الحسینی کا جواب تھا کہ "یہ آپ کا خیال ہے، حزب للہ ایک لبنانی تنظیم ہے"۔ اسی طرح 2006 میں ڈیئربورن شہر میں حزب اللہ کی حمایت میں ایک سرگرمی میں شرکت پر الحسینی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اسٹیج پر نمودار ہوئے تو ان کے ہاتھ میں اس وقت حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی تصویر تھی۔
علی الحسینی کو 20 برس سے زیادہ عرصے سے ڈیئربورن میں اسلامک کمیونٹی کے حلقوں میں ایک اہم شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ الحسینی نے 2020 میں امریکی ڈرون حملے میں ایرانی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی موت پر ایک فیس بک پوسٹ میں تعزیت کا اظہار کیا تھا۔