ہم نے تمام یرغمالیوں کی واپسی کے لیے بھاری قیمت ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی تباہ کن جنگ اور اس کے محاصرے کے 15 ماہ سے زائد عرصے کے بعد جنگ بندی معاہدے کے نفاذ سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا ہے تل ابیب نے یرغمالیوں کی واپسی کے لیے بھاری قیمت ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یرغمالیوں کی واپسی اور حماس کی حکومت ختم کرنا

انہوں نے ہفتے کے روز ایک بیان میں مزید کہا کہ اسرائیلی ہدف اب بھی پٹی میں حماس کی حکمرانی کو ختم کرنے پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ یرغمالیوں کی واپسی اور غزہ سے حماس کے نکالے جانے کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گی۔

یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے معاہدے کو منسوخ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ "ہم اس وقت تک غزہ معاہدہ شروع نہیں کریں گے جب تک ہم ان قیدیوں کے نام حاصل نہیں کر لیتے جنہیں آج رہا کیا جائے گا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماس نے یرغمالیوں کی فہرست حوالے نہیں کی ہے اور معاہدہ آگے نہیں بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ تل ابیب غزہ معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرے گا۔ نیتن یاھو نے مزید کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ذمہ داری تنہا حماس پر عائد ہوتی ہے۔

اس کے برعکس حماس نے انکشاف کیا ہے کہ رہا ہونے والوں کی فہرستیں ہر تبادلے کے دن سے پہلے شائع کی جائیں گی۔

انہوں نے ایک بیان میں ہفتے کو کو مزید کہا کہ یہ نکتہ معاہدے کے مطابق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے کا طریقہ کار اس بات پر منحصر ہوگا کہ اسرائیل کتنے قیدیوں کو رہا کرے گا۔

اسرائیلی وارننگ

اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا معاہدہ آج اتوار کو مقامی وقت کے مطابق 08:30 بجےنافذ ہونے سے چند گھنٹے قبل اسرائیل نے ان مقامات کا نقشہ شائع کیا ہے جہاں غزہ میں فلسطینیوں کو جانے سے منع کیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کو آج ہفتے کے روز جنوبی غزہ سے شمال کی طرف یا نیٹزارم روڈ کی طرف جانے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اب بھی خطرناک ہے۔

انہوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر لکھا کہ معاہدے کی بنیاد پر اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی کے مخصوص علاقوں میں تعینات رہے گی، فوج کے قریب آنے کے خلاف انتباہ کیا جائے گا۔

انہوں نے رفح کراسنگ کے علاقے، فلاڈیلفی کوریڈور اور جہاں اسرائیلی فوج تعینات ہےان تمام علاقوں تک پہنچنے کے خطرے سے بھی خبردار کیا۔

اویچائی نے کہا کہ پٹی کے ساتھ سمندری علاقے میں ماہی گیری، تیراکی اور غوطہ خوری ک خطرناک ہوسکتی ہے۔ ہم آنے والے دنوں میں سمندر میں داخل ہونے کے خلاف خبردار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "اسرائیلی علاقے اور بفر زون کے قریب جانا منع ہے اور یہ بہت خطرناک ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں