واشنگٹن میں جب نئے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 جنوری کو حلف اٹھانے کی تیاریاں زورو شور سے جاری ہیں۔ اس دوران ہزاروں امریکی شہری احتجاج کرنے ہفتے کے روز واشنگٹن میں نکل آئے ۔
کئی ہزار مظاہرین جن میں بڑی تعداد خواتین کی تھی۔ ان میں سے بعض مظاہرین نے سروں پر گلابی ٹوپیاں رکھ کر احتجاج کیا۔ یہ گلابی ٹوپیاں 2017 کے ٹرمپ کے حلف کے موقع پر احتجاجی نشان کے طور پر پہنی گئی تھیں۔
واشنگٹن کے فرینکلن پارک میں یہ مظاہرین صنفی انصاف اور جسمانی آزادی کے حق کے لیے جمع ہوئے تھے۔ اگرچہ مظاہرے کے وقت ہلکی بارش ہورہی تھی مگر مظاہرین موجود رہے۔
ان گلابی ٹوپی والوں کے علاوہ بھی مظاہرین وائٹ ہاؤس کے قریب دو دیگر پارکوں میں جمع ہوئے، ان میں ایک گروپ جمہوریت اور امیگریشن کے ایشوز ے لیے جبکہ گروپ دوسرا واشنگٹن کے مقامی مسائل کی وجہ سے جمع ہوا تھا۔
تاہم مظاہرین کی یہ تعداد 2017 کے مقابلے میں کافی کم تھی۔ کیونکہ نومبر میں ٹرمپ کی جانب سے نائب صدر کملا ہیرس کو شکست دینے کے بعد امریکہ میں خواتین کے حقوق کی تحریک بہت کمزور ہو گئی ہے۔
مظاہرین نےبعض ایس پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پرفیمنسٹ بمقابلہ فاشسٹ لکھا ہوا تھا۔اس موقع پر ایڈووکیسی گروپ کے سربراہ نے کا کہنا تھا ' آج آپ کے ساتھ کےیکجہتی اور یکجہت ہونا واقعی شفا بخش ہے ۔ کیونکہ واقعی ایک خوفناک انتہا پسندی کی طرف جا رہا ہے۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ ٹرمپ کی جیت کے باوجود اسقاط حمل کے حقوق مقبول ہیں۔ اس لیے 'ہم اکثریت ہیں' کا نعرہ لگاتے ہیں۔
تولیدی گروہوں نے شہری حقوق، ماحولیات اور دیگر خواتین کے گروپوں میں شامل ہو کر ٹرمپ اور ان کے ایجنڈے کے خلاف مارچ کو منظم کیا جب وہ پیر کو عہدہ سنبھالنے کی تیاری کر رہے تھے۔