پانامہ نہر : پانامہ حکومت نے امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی کی شکایت اقوام متحدہ سے کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پانامہ حکومت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پانامہ نہر پر قبضے سے متعلق دھمکی پر اقوام متحدہ سے شکایت کی ہے۔

پانامہ حکومت کی طرف سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو لکھے گئے خط میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے ایک آرٹیکل کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ جس کے تحت اقوام متحدہ کا کوئی بھی رکن ملک کسی دوسرے رکن ملک کی علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرے گا۔

انتونیو گوتریس کو لکھے گئے اس خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس معاملے پر غور کرے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب حلف برداری کے موقع پر کیے گئے خطاب میں کہا ہے کہ چین آبی گزرگاہوں کے اردگرد اپنی موجودگی بڑھاتے ہوئے پانامہ نہر کو آپریٹ کر رہا ہے۔

یچیسٹن ہولڈنگز کی ذیلی کمپنی 'ہچسٹن پورٹس' پانامہ نہر کی بابلوا اور کرسٹوبل بندرگاہ کا انتظام چلاتی ہے۔ 'کمٹرولر' کے دفتر نے کہا ہے کہ اس کا مقصد اس بات کا تعین کرنا تھا کہ کمپنی رعایتی معاہدوں کی تعمیل کر رہی ہے۔

'ہچنسٹن پورٹس' کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پانامہ حکام کے ساتھ باہمی تعاون پر مبنی تعلقات رہے ہیں اور ایسے ہی تعلقات جاری رہیں گے۔'

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ معاہدے کے مطابق تمام قوانین و ضوابط پر عمل کے لیے پرعزم ہیں۔ ہر سال آڈٹ کیے گئے مالیاتی حسابات پانامہ ریاست کے ساتھ شیئر کیے جاتے ہیں۔ یہ ہمارے انتظامی معاملات پر ان کے اعتماد کو یقینی بناتے ہیں۔

پانامہ کے صدر ہوزے راؤل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا 'نہر پانامہ کی ہے اور اسی کی رہے گی۔'

واضح رہے امریکہ کے بعد چین پانامہ نہر کا بڑا صارف ہے۔ آبی گزرگاہ کے ذریعے ہونے والی آمدنی نے 30 بلین ڈالر سے زائد حصہ پانامہ حکومت کے مالیاتی شعبے میں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں