افغان طالبان نے سمارٹ فونز پر پابندی لگا دی، تحریک کے ارکان کے فونز توڑنے کے مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ نے ایسی دستاویزات حاصل کر لی ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ طالبان حکومت نے افغانستان میں سرکاری، سکورٹی اور تعلیمی اداروں کے اندر سمارٹ فونز کے استعمال پر اپنی پابندیوں کو وسعت دے دی ہے، یہ ایک ایسا نیا قدم ہے جو ملک کے اندر مواصلات، عکاسی اور معلومات کی گردش کے ذرائع سے نمٹنے میں بڑھتی ہوئے سختی کی عکاسی کرتا ہے۔

طالبان کے امیر ملا ھبۃ اللہ اخوندزادہ کے دفتر سے منسوب ایک دستاویز کے مطابق ایک زبانی حکم جاری کیا گیا ہے جس کے تحت طالبان کے ارکان اور ان کے محکموں کے ملازمین پر سمارٹ فونز کا استعمال مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ملا ھبۃ اللہ نے یہ حکم دیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو مجرم تصور کیا جائے گا جنہیں فوجی عدالتوں کے حوالے کیا جائے گا۔

یہ دستاویز یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اس فیصلے کی اطلاع فوجی عدالتوں کے سربراہوں کو بعض علاقوں میں سکیورٹی کمانڈروں اور انٹیلی جنس سربراہوں کی موجودگی میں دی گئی تھی۔ انہیں اس پر عمل درآمد کی نگرانی کرنے اور طالبان کی قیادت کو رپورٹیں بھیجنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

حوالے کرنے یا توڑنے کا جدول

یہ فیصلہ صرف زبانی انتباہ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں نگرانی کا ایک تحریری طریقہ کار بھی شامل ہے کیونکہ اس کے ساتھ حکام اور ملازمین کا ڈیٹا جمع کرنے کا ایک جدول منسلک کیا گیا ہے جس میں نام، کمیونیکیشن نیٹ ورک، عہدہ، جائے کار، فون نمبر اور حکم پر عمل درآمد کی نوعیت شامل ہے۔

’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘نے طالبان کے ارکان کی اپنے سمارٹ فونز توڑنے کی تصاویر اور ویڈیوز بھی حاصل کی ہیں۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جس نے بہت سے افغانوں کے ذہنوں میں 1996 اور 2001 کے درمیان تحریک کے پہلے دور حکومت کے طریقوں کو تازہ کر دیا ہے۔ اس دور میں حکومت ٹیلی ویژن پر پابندی لگاتی تھی اور نشریاتی آلات کو توڑ دیتی تھی۔

’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس فیصلے نے سرکاری اداروں کے اندر بڑے پیمانے پر تشویش پیدا کرنا شروع کر دی ہے، خاص طور پر بعض صوبوں میں زبانی ہدایات کی گردش کے ساتھ جو ملازمین اور آنے والوں کو محکموں میں سمارٹ فون لانے سے روکتی ہیں۔ اسی طرح مغربی افغانستان میں ہرات کے مقامی ذرائع نے بتایا کہ طالبان نے حجاب کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے خواتین اور لڑکیوں کی گرفتاری کے بعد حالیہ احتجاجی مظاہروں کے پس منظر میں فونز کی تلاشی سخت کر دی ہے۔ مظاہروں سے متعلق تصاویر یا کلپس کی تلاش میں متعدد شہریوں کے آلات کی تلاشی لی ہے۔

پابندی سکولوں تک پہنچ گئی

’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کو ملنے والی دو دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ یہ پابندی سکولوں تک پھیل گئی ہے جہاں دارالحکومت کابل میں محکمہ تعلیم کی جانب سے گزشتہ 19 مئی کو جاری ہونے والی پہلی دستاویز میں تعلیمی زونز کی انتظامیہ کو ہدایت شامل تھی کہ وہ طلبہ کو سرکاری سکولوں اور دینی مدارس کے اندر سمارٹ فون لانے اور استعمال کرنے سے سختی سے منع کریں۔

دوسری دستاویز 23 مئی کو کابل میں محکمہ تعلیم کے تحت اسلامی تعلیم کے ادارے کی طرف سے جاری کی گئی تھی۔ اس میں تعلیمی زونز میں اس ہدایت کی تعمیم کی تصدیق کی گئی اور باقاعدہ اقدامات کرنے اور محکمہ تعلیم کو اس پر عمل درآمد سے آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

طالبان حکومت میں وزارت تعلیم نے اس فیصلے کا جواز ایک صحت مند، پرامن اور محفوظ تعلیمی ماحول کو برقرار رکھنے اور ان ذرائع کو روکنے سے دیا جو طلبہ کے اسباق کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتے ہیں یا کلاسوں کے اندر افراتفری کا باعث بنتے ہیں۔

تصویر اور معلومات پر کنٹرول

سمارٹ فونز پر پابندی کا فیصلہ اس وسیع تر راستے سے الگ تھلگ نظر نہیں آتا جس پر طالبان کے امیر تصویر اور معلومات کو کنٹرول کرنے کے لیے چل رہے ہیں کیونکہ طالبان حکومت اس سے قبل بعض صوبوں میں فونز کے استعمال پر پابندیاں عائد کر چکی ہے۔ جن صوبوں میں اگست 2025 میں پنجشیر بھی اس وقت شامل ہوگیا جب اس نے سرکاری اداروں کے اندر اسمارٹ فون لے جانے کی صورت میں ملازمین کے فون ضبط کرنے یا انہیں نوکری سے برطرف کرنے کی دھمکی دی تھی۔

طالبان حکومت میں اعلیٰ تعلیم کے وزیر ندا محمد ندیم نے بھی پہلے سمارٹ فونز کو مسلمانوں کے تین بڑے دشمنوں میں سے ایک قرار دیا تھا۔ اس کے بعد کام کے اوقات کے دوران یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے اندر ان کے استعمال پر پابندی کی ہدایات جاری کی جائیں سوائے یونیورسٹیوں اور تعلیمی مراکز کے سربراہوں کے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ نیا فیصلہ طالبان کے اندر ان ویڈیوز کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے خوف کی عکاسی کرتا ہے جو کرپشن، سکورٹی کی خلاف ورزیوں یا ان کے ارکان کے شرمناک رویے کو بے نقاب کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ فونز کے ذریعے جغرافیائی مقامات کے تعین سے وابستہ سیکورٹی خدشات بھی ہیں۔ ان لوگوں کے مطابق بدعنوانی اور خلاف ورزیوں کی وجوہات کا تدارک کرنے کے بجائے طالبان خود دستاویزی ٹول کو ہی نشانہ بناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

گزشتہ فیصلے

یہ میڈیا کے خلاف وسیع تر فیصلوں کے سلسلے کا حصہ ہے کیونکہ 29 ستمبر 2025 کو طالبان حکومت نے افغانستان میں انٹرنیٹ اور فون کی خدمات کو مکمل طور پر منقطع کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہ یکم اکتوبر کو تقریباً دو دن کے بلیک آؤٹ کے بعد بتدریج بحال ہوئیں جس نے ہوابازی، بینکوں، کاروبار اور بیرونی دنیا کے ساتھ رابطے کو درہم برہم کر دیا تھا۔

افغان طالبان نے اگست 2024 میں "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کا قانون بھی نافذ کیا تھا جس کی میڈیا سے متعلقہ شق میں جانداروں کی تصاویر شائع کرنے اور نشر کرنے پر پابندی شامل تھی۔ اس میں انسان اور جانور بھی شامل ہیں۔

اس پابندی کا نفاذ زیادہ تر صوبوں میں بتدریج شروع ہوا جہاں مقامی میڈیا اور سرکاری چینلز نے لوگوں اور جانوروں کی تصاویر نشر کرنا بند کر دیں اور ان کی جگہ فطرت کے مناظر یا چہروں سے خالی مواد کو شامل کیا۔ بعض صوبوں میں سرکاری چینلز "صوت الشریعہ" کے نام سے صوتی نشریات میں تبدیل ہو گئے جو طالبان کی جانب سے مواد کو محدود کرنے سے لے کر اس کی تیاری اور گردش کے آلات کو ضبط کرنے کی طرف منتقلی کا ایک اضافی اشارہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں