صدر ٹرمپ نے ایران کو نئے اور شدید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے تہران پر مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں اپنی عقلوں کا مذاق اڑانے کا الزام لگایا۔
انہوں نے وائٹ ہاؤس سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ واشنگٹن آج پھر ایسی ہی شدید ضربیں لگائے گا جیسا ہم نے کل کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک ایک حقیقی اور مؤثر معاہدہ چاہتا ہے۔ ایران نے جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور اب انہیں معاہدے پر دستخط کرنے ہوں گے۔
ترمب:
— العربية (@AlArabiya) June 10, 2026
- لن أدلي بتفاصيل حول عزمنا تدمير الجسور ومحطات الطاقة الإيرانية
- إيران تستمر في المماطلة وسنرى ما ستؤول إليه الأمور pic.twitter.com/i4nsoy3F88
اس دوران انہوں نے بتایا کہ امریکہ تہران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو بامعنی اور قابل عمل ہو۔ اسی طرح انہوں نے مزید کہا کہ ایران مسلسل لیت و لعل سے کام لے رہا ہے اور ہم دیکھیں گے کہ معاملات کا کیا انجام ہوتا ہے۔ ایران میں بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی اپنی دھمکی کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ میں ایرانی پلوں اور پاور پلانٹس کو تباہ کرنے کے اپنے ارادے کے بارے میں تفصیلات نہیں دوں گا۔
اسرائیل تیار ہے
اسی کے ساتھ ہی اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاٹز نے کہا کہ ایران کے ساتھ محاذ آرائی ابھی ختم ہونے سے بہت دور ہے ۔ اسرائیلی فوج ایران کے اندر شدید ضربیں لگانے کے لیے تیار ہے۔
اسرائیلی چینل 14 کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اسرائیلی فوج تیزی سے فوجی کارروائیوں کی طرف لوٹنے کے لیے تیار ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ اس سے ان ضربوں پر عمل درآمد ممکن ہو سکے گا جو لڑائی کے پچھلے دور کے دوران نہیں لگائی گئی تھیں۔
وقت ختم ہو رہا ہے
دوسری جانب ویب سائٹ ’’ ایکسیوس ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ اگر ایران نے لیت و لعل کا سلسلہ جاری رکھا تو ٹرمپ اسے بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرنے کے لیے تیار ہیں۔ =
اہلکار نے مزید کہا ایران کے ساتھ ڈیل ابھی تک میز پر موجود ہے لیکن انہیں تیزی سے جواب دینا ہوگا۔ واشنگٹن نے ایران پر واضح کر دیا ہے کہ وقت ختم ہو رہا ہے۔
امریکہ کو چیلنج کرنا دانشمندی نہیں
ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے لیے امریکہ کو مزید چیلنج کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔ کیوبا میں امریکی اڈے گوانتانامو کے دورے کے دوران پیٹ ہیگستھ نے مزید کہا کہ ایران کے لیے ہمیں مزید چیلنج کرنا نادانی ہوگی، صدر ٹرمپ ایک معاہدے، بلکہ ایک ایسے جامع معاہدے کے خواہاں ہیں جو امریکی عوام کے مفاد میں ہو تاکہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
دھمکیوں کے باوجود مذاکرات جاری
"فاکس نیوز" کے مطابق یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے تہران پر نئے حملوں کی دھمکی کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات بدھ کے روز بھی جاری رہے۔ نام ظاہر نہ کرنے والے اہلکار نے مزید کہا کہ مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔ واشنگٹن تہران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا جاری رکھے گا۔
واضح رہے امریکہ نے گزشتہ روز شام کو جنوبی ایران میں متعدد مقامات پر اس وقت فضائی حملے کیے تھے جب امریکی صدر نے کہا تھا کہ تہران نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرایا ہے۔ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان امن کے امکانات پر شکوک و شبہات بڑھ گئے۔
دوسری طرف ایرانی افواج نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں کی طرف میزائل اور ڈرون داغ کر جواب دیا۔ ان میزائلوں اور ڈرونز کے بارے میں بتایا گیا کہ ان تمام کو مار گرایا گیا اور روک دیا گیا۔
اتوار کی شام سے پیر کی صبح تک اسرائیل اور ایران کے درمیان بھی جھڑپیں ہوئیں۔ اس سے بعد ٹرمپ کی طرف سے دونوں فریقوں کو پرسکون رہنے کی تاکید کے بعد دونوں فریقوں نے حملے روکنے کا اعلان کردیا تھا۔ اگرچہ یہ کشیدگی واشنگٹن اور تہران کے درمیان 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں میں مزید پیچیدگی کا باعث بن گئی ہے۔ امریکی صدر نے گزشتہ عرصے کے دوران درجنوں بار اتفاقِ رائے کے قریب ہونے کا اعادہ کیا تھا۔