افغان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کی جانب سے طالبان تحریک کے رہنماؤں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ کے مطالبے کے پیچھے "سیاسی محرکات" ہیں ... اور یہ "سیر کو سوا سیر" کی پالیسی پر مبنی ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے کل جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ خواتین کے خلاف 'ظلم و ستم' کے الزام میں افغان طالبان تحریک کے سینئر رہنماؤں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ خان کے نزدیک یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
کریم خان کے مطابق وہ جن رہنماؤں کے خلاف وارنٹ گرفتاری کا اجرا چاہتے ہیں ان میں طالبان تحریک کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ اور سپریم کورٹ کے سربراہ عبد الحکیم حقانی شامل ہیں۔
متعلقہ دستاویز کے مطابق چیف پراسیکیوٹر کے پاس ایسی منطقی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ مذکورہ دونوں رہنما صنفی تشدد کی صورت میں انسانیت کے خلاف سماجی نوعیت کے جرائم کے مجرمانہ طور پر ذمے دار ہیں۔
کریم خان نے واضح کیا کہ "ہم کہہ سکتے ہیں کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے موجودہ صورت حال نا قابل قبول ہے"۔
تحریک طالبان نے اگست 2021 میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں واپس آنے کے بعد خواتین کے حوالے سے اپنے سابقہ دور کے مقابلے میں زیادہ لچک کا مظاہرہ کیا۔ واضح رہے کہ سابقہ دور (1996 – 2001) میں طالبان نے خواتین کو تقریبا تمام حقوق سے ہی محروم کر دیا تھا۔
تاہم جلد ہی طالبان حکام نے سخت پابندیاں عائد کرنا شروع کر دیں جن کو اقوام متحدہ نے "صنفی بنیاد پر علاحدہ کرنے" کی نظر سے دیکھا۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ججوں کو وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے کریم خان کی درخواست پر غور کرنا ہو گا اور اس میں ہفتوں یا مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔
-
کریم خان کی دمشق میں احمد الشرع سے ملاقات، جنگی جرائم میں ملوث افراد سے متعلق گفتگو
شام میں 8 دسمبر 2024 کو بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے غیر ملکی وفود کے ...
مشرق وسطی -
نیتن یاہو، گیلنٹ اور السنوار کی گرفتاری کے وارنٹ جلد جاری کیے جائیں : کریم خان
ہالینڈ کے شہر ہیگ میں عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر کریم خان نے ...
بين الاقوامى -
پاکستانی نژاد کریم خان جن کے فیصلے نے اسرائیل میں غصے کا طوفان کھڑا کیا کون ہیں؟
گذشتہ چند ہفتوں کے دوران بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان کا نام ...
بين الاقوامى