ٹرمپ نے اسرائیل کو 2,000 پاؤنڈ وزنی بموں کی ترسیل کی اجازت، بائیڈن کا تؤقف ختم

اسرائیل نے امریکہ کو ان کی ادائیگی کی ہے: ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈیموکریٹک سابق صدر جو بائیڈن کی طرف سے اسرائیل کو 2000 پاؤنڈ وزنی بموں کی فراہمی پر عائد پابندی ختم کر دے۔

یہ اقدام کافی حد تک متوقع تھا۔

"ہم نے آج پابندی ہٹا دی۔ اور یہ ان کے پاس ہوں گے۔ انہوں نے ان کے لئے ادائیگی کی اور وہ طویل عرصے سے ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ سٹوریج میں ہیں۔" ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں سوار نامہ نگاروں کو بتایا۔

بائیڈن نے ان بموں کی فراہمی پر اس تشویش کے باعث پابندی لگا دی کہ یہ غزہ جنگ میں عام آبادی خاص طور پر غزہ کے رفح میں تباہی کا سبب بن سکتے تھے۔

ایک 2,000 پاؤنڈ وزنی بم موٹے کنکریٹ اور دھات کو چیر کر گذر سکتا ہے جس سے دھماکے کا ایک وسیع رداس پیدا ہوتا ہے۔ رائٹرز نے گذشتہ سال رپورٹ کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ نے سات اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد اسرائیل کو ہزاروں 2,000 پاؤنڈ وزنی بم بھیجے لیکن ایک کھیپ پر پابندی لگا دی تھی۔

جنگ شروع ہونے کے بعد سے واشنگٹن نے اسرائیل کے لیے اربوں ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

ٹرمپ نے اتنے طاقتور بم کیوں جاری کیے، اس سوال پر انہوں نے جواب دیا، "کیونکہ انہوں (اسرائیل) نے یہ خریدے ہیں۔"

اس سے قبل ہفتے کے روز ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر کہا، "کئی چیزیں جو اسرائیل نے آرڈر کیں اور ان کی ادائیگی کی تھی لیکن جو بائیڈن نے وہ نہیں بھیجیں، وہ اب روانہ کر دی گئی ہیں!"

ٹرمپ اور بائیڈن امریکی اتحادی اسرائیل کے مضبوط حامی رہے ہیں حتیٰ کہ اسرائیل کے فوجی حملے سے غزہ میں انسانی بحران پر واشنگٹن انسانی حقوق کے حامیوں کی تنقید کا نشانہ بن چکا ہے۔ مظاہرین نے ہتھیاروں کی پابندی کا ناکام مطالبہ کیا ہے۔

واشنگٹن نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں جیسے ایرانی حمایت یافتہ مزاحمتی گروپوں کے خلاف دفاع میں اسرائیل کی مدد کر رہا ہے۔

غزہ میں جنگ بندی ایک ہفتہ قبل عمل میں آئی تھی اور اس کے نتیجے میں اسرائیل کے زیرِ حراست فلسطینی قیدیوں کے بدلے حماس کے ہاتھوں کچھ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا۔ 20 جنوری کو صدارت سنبھالنے سے پہلے ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر غزہ میں حماس کے ہاتھوں یرغمال افراد کو رہا نہ کیا گیا تو "بھاری قیمت ادا کرنا ہو گی۔"

یاد رہے کہ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ مظالم میں 47,000 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں