آج پیر کے روز بے گھر فلسطینیوں کی غزہ پٹی کے شمالی علاقوں کی طرف واپسی کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیل کی جانب سے دھمکانے کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے نے خبردار کیا ہے کہ تل ابیب 7 اکتوبر 2023 سے پہلے والی حالت میں واپسی کی اجازت نہیں دے گا۔
اتوار کے روز ایک بیان میں کاتز نے زور دیا کہ اسرائیلی وزارت دفاع غزہ پٹی کے شمال اور جنوب میں فائر بندی پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھے گی۔
انھوں نے باور کرایا کہ جو کوئی بھی اسرائیلی فوج کے لیے خطرہ بنے گا اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
دوسری جانب حماس تنظیم کا کہنا ہے کہ "بے گھر افراد کی ان کے گھروں کو واپسی ایک بار پھر یہ ثابت کرتی ہے کہ قابض طاقت (اسرائیل) اپنے دشمنانہ مقاصد کے تحت فلسطینیوں کی جبری ہجرت اور ان کے اٹل ارادے توڑنے میں ناکام ہو چکی ہے"۔
ایک بیان میں تنظیم نے کہا کہ "بے گھر ہونے پر مجبور کر دیے جانے والے لوگوں کی اپنے گھروں کی تباہی کے باوجود بڑی تعداد میں واپسی کے مناظر، یہ فلسطینیوں کی اپنی سرزمین میں مضبوط جڑوں کی تصدیق کرتے ہیں"۔
حماس نے اپیل کی ہے کہ غزہ پٹی کے تمام علاقوں میں امدادی سامان پہنچائے جانے کا عمل تیز کر دیا جائے۔
حماس اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کے بعد آج پیر کے روز ہزاروں بے گھر فلسطینیوں نے اپنا سامان اٹھا کر شارع الرشید کے راستے غزہ پٹی کے شمال کی جانب واپسی کا آغاز کر دیا۔