اسرائیلی یرغمالی اربیل یہود کو حوالے کرنے کے دوران بھگدڑ اور افراتفری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس میں حماس کی جانب سے دو اسرائیلی یرغمالیوں اربیل یہود اور گادی موسیس کو حوالے کرنے بعد یحییٰ السنوار کے گھر کے سامنے موجود لوگوں میں شدید افراتفری اور بھگدڑ مچ گئی۔

خوفناک مناظر میں اس جگہ پر لوگوں کا بڑا ہجوم دیکھا گیا جہاں یرغمال بنائے گئے افراد کو ریڈ کراس کی گاڑیوں کے حوالے کیا گیا۔ اس جگہ پر افراتفری کی کیفیت کے درمیان القسام بریگیڈز اور القدس بریگیڈز کے اہلکار تعینات رہے۔

تصاویر میں یہ بھی دکھایا گیا کہ ریڈ کراس کی وہ کاریں بہت زیادہ ہجوم کی وجہ سے رک گئیں جو اربیل یہود اور گادی موسیس ٰ کو لے کر جا رہی تھیں۔ اسرائیلی خاتون اربیل القسام کے ارکان کے درمیان نمودار ہوئی اور اسے ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا۔

یہ پیش رفت ’’اسلامک جہاد‘‘ کی جانب سے دو اسرائیلی یرغمالیوں یہود اور موسیس کے حوالے کرنے کے طریقہ کار کے خاتمے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔ القدس بریگیڈز کے فوجی ترجمان نے ٹیلی گرام پر ایک مختصر بیان میں کہا کہ دونوں یرغمالیوں کو اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے تیسرے بیچ کے حصے کے طور پر رہا کیا جائے گا۔ رہائی سے قبل ٹیلی گرام پر اسرائیلی یرغمالی 29 سالہ اربیل یہود اور 80 سالہ گادی موسیس کی ویڈیو بھی جاری کی گئی۔

اسرائیلی فوجی اگام برجر

ریڈ کراس کی ٹیمیں آج جمعرات کو غزہ پہنچیں۔ انہوں نے جبالیا سے اسرائیلی فوجی اگام برجر کو حاصل کیا جس کے بدلے میں تقریباً 30 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اگام برجر کو وصول کرلیا ہے اور وہ اپنے والدین سے ملنے چلی گئی ہے۔

دوسری جانب فلسطینی قیدیوں کی اتھارٹی نے اعلان کیا کہ اسرائیل 110 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا جن میں سے نو کا تعلق غزہ سے ہے۔ یاد رہے 19 جنوری کو جنگ بندی معاہدہ نافذ کیا گیا۔ یہ معاہدے تین مراحل پر مشتمل ہے۔ اس سے قبل 290 فلسطینی قیدیوں کو دو مرتبہ کے تبادلے میں رہا کیا گیا ہے۔ ان 290 میں سے 121 عمر قید کاٹنے والے قیدی بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں