گذشتہ دنوں کے دوران میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک سے زیادہ بار یہ بات کہہ چکے ہیں کہ اردن اور مصر غزہ کی پٹی کے فسلطینیوں کا استقبال کریں گے ، جب کہ دونوں ممالک بارہا اسے "فلسطینیوں کی جبری ہجرت" قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔
قیدیوں کے امور سے متعلق امریکی صدر کے نمائندے ایڈم بوہلر نے واضح کیا ہے کہ عمّان اور قاہرہ کو فلسطینیوں کے استقبال کی تجویز مسترد کر دینے کے بعد ایک بہتر حل پیش کرنا چاہیے جو ان کے نقطہ ہائے نظر سے قابل عمل ہو۔ بوہلر کے مطابق ٹرمپ نے مصر اور اردن کے حوالے سے جو راستہ مناسب سمجھا وہ پیش کر دیا مگر امریکی صدر دیگر طریقوں کے لیے بھی کشادہ موقف رکھتے ہیں۔ یہ بات اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے بتائی۔
اس سلسلے میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی کا ایک پرانا بیان پھر سے سامنے لایا جا رہا ہے۔ مصری صدر نے 10 اکتوبر 2023 کو جرمن چانسلر اولاف شولٹس کے ساتھ قاہرہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران میں کہا تھا "اسرائیل میں صحرائے نقب ہے ... فلسطینیوں کو وہاں منتقل کیا جا سکتا ہے یہاں تک کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں مزاحمت یا مسلح جماعتوں مثلا حماس اور الجہاد الاسلامی کو ختم کرنے کے لیے اپنا علانیہ آپریشن مکمل کر لے ... اور پھر فلسطینی آبادی کو ایک بار پر واپس لایا جائے"۔
تاہم السیسی نے چند روز قبل باور کرایا ہے کہ فلسطینی عوام کی بے دخلی یا جبری ہجرت "ظلم ہے اور ان کا ملک اس میں شریک نہیں ہو سکتا"۔ مصری صدر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قاہرہ امن اور دو ریاستی حل کو یقینی بنانے کے لیے امریکی صدر کی انتظامیہ کے ساتھ کام کرے گا۔
صحرائے نقب مقبوضہ فلسطین کے جنوبی حصے (جنوبی اسرائیل) میں 14 ہزار مربع کلو میٹر کے رقبے پر واقع ہے جو فلسطین کے تاریخی رقبے کا 46% بنتا ہے۔ اس کی مغربی حدود جزیرہ نما سیناء اور غزہ کی پٹی سے ملتی ہے۔
صحرائے نقب کا علاقہ معدنی دولت اور زراعت کے امکانات سے بھرپور ہے۔ اسرائیل نے 1948 میں اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہاں اسرائیل کے کئی فوجی اڈے قائم ہیں۔ ان میں رامون ایئربیس اور حتسریم ایئربیس کے علاوہ دیمونا کا جوہری ری ایکٹر شامل ہے۔
اسی طرح نقب کے علاقے میں خانہ بدوش 'بدو' آبادی بھی رہتی ہے۔ یہاں ارافا سولر پاور اسٹیشن اور ایک امریکی اسرائیلی فوجی اڈا بھی واقع ہے۔