سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ روس کے صدر ولادیمیر پیوتن کی ملاقات کے حوالے سے ممکنہ جائے ملاقات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
20 جنوری سے امریکی صدارت پر ایک بار پھر فائز ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ وہ جلد روسی صدر سے ملیں گے۔ علاوہ ازیں ڈونلڈ ٹرمپ روس اور یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے لیے بھی اپنی کوششوں کا اعلان کر چکے ہیں۔
روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے ٹرمپ کو الیکشن جیتنے پر مبارکباد دی تھی اور کہا تھا کہ وہ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ تاکہ یوکرین اور توانائی کے امور پر باہم تبادلہ خیال کریں۔
البتہ روس کے حکام اس امر کی تردید کرتے ہیں کہ دونوں کے درمیان کوئی براہ راست رابطہ ہوا ہے یا فون پر رابطہ ہونے کے لیے دونوں طرف سے کوئی کوشش کی جا رہی ہے۔
روس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات امکانی طور پر روس اور امریکہ سے ہٹ کر کسی اور ملک میں ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسے ملک ہو سکتے ہیں جہاں دونوں بڑے رہنما آپس میں ملیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ امکانی ملاقات کسی وقت اسی سال میں متوقع ہوگی۔ تاہم ابھی واضح نہیں ہے کہ یہ رواں سال کے دوران کب ممکن ہوتی ہے۔
-
عالمی رہنما ٹرمپ کا فیصلہ واپس لینے کے لیے امریکہ پر دباؤ ڈالیں: ڈبلیو ایچ او
امریکہ عالمی ادارہ صحت میں سب سے بڑا تعاون کرنے والا ملک، 2024 میں بجٹ میں اس کا ...
بين الاقوامى -
ہم نے ٹرمپ کی طرف سے مذاکرات کا کوئی اشارہ نہیں دیکھا: ایران
شام میں کسی بھی حکومت کو ہماری حمایت حاصل ہوگی: وزارت خارجہ
مشرق وسطی -
ٹرمپ کے نئے ٹیرف اعلانات ' تجارتی جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوگی' : یورپی یونین
یورپی یونین میں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اعلانات خصوصا تجارتی اور ٹیرف کے ...
بين الاقوامى