اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے نگران ادارے ’یونیسیف‘ نے کہا ہے کہ جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی کو فراہم کی جانے والی امداد ناکافی ہے۔
یونیسیف کی ترجمان ٹیس انگرام نےکہا کہ جو امداد لائی جا رہی ہے وہ غزہ میں ضروریات کے سمندر میں کے مقابلے میں ایک قطرے کے مترادف ہے۔
انہوں نے منگل کے روز پریس بیانات میں مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں امدادی ٹرکوں کے داخلے پر عائد پابندیوں کو ختم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خوراک، طبی اور امدادی سامان لانے کے لیے جنگ بندی سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انگرام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "جنگ بندی کے باوجود انسانی صورت حال بچوں کے لیے خطرناک ہے"۔
ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی واپسی
یہ بیانات اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے گزشتہ ہفتے کے دوران 545,000 سے زائد فلسطینیوں نے جنوبی غزہ سے شمالی غزہ کا رخ کیا۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کل سوموار کو صحافیوں کو بتایا کہ اقوام متحدہ اور اس کے انسانی ہمدردی کے شراکت داروں نے اطلاع دی ہے کہ اسی عرصے کے دوران 36,000 سے زیادہ افراد شمالی غزہ سے جنوب کی طرف منتقل ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے شراکت داروں نے اطلاع دی ہے کہ قیمتوں میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے، لیکن پھر بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے اشیا کی قیمتیں زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "تقریباً ایک تہائی گھرانوں کو خوراک تک بہتر رسائی حاصل ہے، لیکن کھپت اب بھی بڑھنے سے پہلے کی سطح سے بہت کم ہے۔"
اقوام متحدہ نے نشاندہی کی کہ زیادہ تر خاندانوں کو درپیش بنیادی رکاوٹ "نقدی لیکویڈیٹی کی کمی" ہے۔
اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے شراکت داروں نے وضاحت کی کہ شمالی غزہ کی پٹی میں بیت حانون، بیت لاہیا اور جبالیہ میں تین عارضی کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے ہر ایک میں تقریباً پانچ ہزار افراد رہ سکتے ہیں۔
تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی معاہدے میں جنگ کے خاتمے اور آبادی والے علاقوں سے اسرائیلی انخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پہلا مرحلہ چھ ہفتے تک جاری رہے گا اور اس میں تقریباً 1,900 فلسطینی قیدیوں کے بدلے غزہ (غیر تھائی) سے 33 مغویوں کی رہائی بھی شامل ہے۔