آسٹریلیا نے حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم پر پابندیاں عاید کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی حمایت یافتہ لبنانی مزاحمتی گروپ حزب اللہ کے نئے سربراہ نعیم قاسم پر آسٹریلیا نے پابندیاں عاید کر دی ہیں۔ آسٹریلیا امریکہ اور اسرائیل کا ایک بڑا اتحادی ملک سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے اسرائیل کی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف حالیہ جنگ کے بعد آسٹریلیا کی طرف سے یہ پابندیاں ایک اور دھچکے کے طور پر سامنے آئی ہیں۔

نعیم قاسم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے اسرائیلی بمباری میں جاں بحق ہونے کے بعد سے حزب اللہ کے قائم مقام سربراہ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اسرائیلی بمباری سے بیروت کے مضافاتی علاقوں سمیت کئی دیگر لبنانی علاقوں خصوصاً جنوبی لبنانی میں بہت تباہی ہوئی اور ہزاروں کی ہلاکت کے علاوہ لاکھوں لبنانیوں کو نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔

آسٹریلیا کی وزارت خارجہ نے پیر کے روز نعیم قاسم کے خلاف پابندیوں کے اعلان کے ساتھ حزب اللہ کو بے شمار لبنانی شہریوں کی ہلاکتوں کا اسرائیلی بمباری کے دوران ذمہ دار قرار دیا ہے۔ نیز اسرائیل اور پورے مشرق وسطی ٰ میں بھی ہونے والی ہلاکتوں کا ذمہ دار حزب اللہ کو ہی کہا ہے۔

آسٹریلیا نے حزب اللہ کو 2021 میں دہشت گر د گروپوں کی فہرست میں شامل کیا تھا اور بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا تھا کہ وہ بھی حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دے۔

واضح رہے پچھلے سال ماہ ستمبر میں اسرائیلی بمباری اور بعد ازاں زمینی حملے کے نتیجے میں محض چند ماہ کے دوران اسرائیل نے حزب اللہ کی اہم قیادت کا صفایا کر دیا تھا۔

حزب اللہ جو غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خلاف حماس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے لبنان اسرائیل سرحد پر اسرائیل کے خلاف جھڑپیں شروع کیے تھی کو بعد ازاں تباہ کن جنگ کا 26 نومبر 2024 تک سامنا کرنا پڑا تھا۔ البتہ اس کے بعد امریکہ اور فرانس کی مدد سے اسرائیل نے جنگ بندی قبول کر لی۔ تاہم ابھی جنگ بندی شرائط پر عمل التوا میں ہے۔

لیکن اب لبنان کے نئے صدر کا انتخاب ہو چکا ہے اور حزب اللہ کو بہت کمزور کیا جا چکا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ لبنان میں اب حزب اللہ نہیں رہ سکے گی۔ اس تناظر میں نعیم قاسم پر آسٹریلیا کی جانب سے یہ لگائی گئی پابندیاں اہم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں