لبنانی فوج جنوب میں تعینات اور تیار ہے: یونیفل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے فوج کی تیاری کی تصدیق کی ہے۔

اقوام متحدہ کی امن فوج کے ترجمان اینڈریا ٹینینٹی نے اعلان کیا کہ لبنانی فوج جنوب میں اپنی پوزیشنوں پر تعینات اور تیار ہے۔

انہوں نے العربیہ/الحدث سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ لبنانی فوج کے ساتھ مل کر جنوب میں کام کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے ابھی تک مشرقی سیکٹر کے تمام علاقوں سے انخلاء نہیں کیا ہے۔

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں نبطیہ گورنری کے قصبوں راب ثلاثین ،یارون میں گھروں کو جلانا اور دھماکوں سے اڑا دینا جاری رکھا ہے، اس طرح آج بدھ کے روز جنگ بندی معاہدے کی دو نئی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔

عدادوشمار کے مطابق 72 روز قبل معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کی کل تعداد بڑھ کر 854 ہو گئی ہے۔ اسرائیلی فورسز نے مرجیعون ضلع میں واقع قصبے راب ثلاثین میں متعدد مکانات کو آگ لگا دی۔

بنت جبیل ضلع کے قصبے یارون میں اسرائیلی فوج نے منظم بمباری کی جس میں کئی گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔

ستائیس نومبر 2024 کو جنگ بندی کے معاہدے نے اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ختم کر دیا جو 8 اکتوبر 2023 کو شروع ہوا اور 23 ستمبر کو ایک مکمل جنگ میں تبدیل کرد گیا۔

تل ابیب نے معاہدے کی خلاف ورزی کی

قابل ذکر ہے کہ اس معاہدے میں 60 دن کی ایک مخصوص ڈیڈ لائن شامل تھی، جس کے دوران اسرائیل جنگ کے دوران جنوبی لبنان کے ان قصبوں سے دستبردار ہو جائے گا جن پر اس نے قبضہ کیا تھا۔

لیکن تل ابیب نے اس ڈیڈ لائن کے دوران مکمل انخلاء پر عمل درآمد سے انکار کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔اسرائیلی فوج کو 26 جنوری کو طلوع آفتاب کے وقت ڈیڈ لائن ختم ہوگئی تھی مگر بعد میں امریکہ کی کوششوں سے 18 فروری تک ڈیڈ لائن میں توسیع کی گئی۔

لبنان کے سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر انادولو ایجنسی کے اعدادوشمار کے مطابق آج تک اسرائیلی فوج کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 67 افراد ہلاک اور 263 زخمی ہو چکے ہیں۔

لبنان میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں کل 4,098 افراد ہلاک اور 16,888 زخمی ہوئے جن میں بچوں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد شامل تھی، اس کے علاوہ تقریباً 1,400,000 افراد بے گھر ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں