خواتین کی تعلیم پر پابندی کی مذمت کرنے والے طالبان کے وزیر نے افغانستان چھوڑ دیا
برطانوی ذرائع کے مطابق طالبان رہنما ھبۃ اللہ اخوندزادہ نے عباس ستانکزئی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے
برطانوی اور افغان پریس رپورٹس کے مطابق طالبان کے ایک سینیئر اہلکار محمد عباس ستانکزئی جو افغانستان کے نائب وزیر خارجہ ہیں، حکومت کی جانب سے خواتین کی تعلیم پر پابندی کی کھلے عام مخالفت کرنے کے بعد افغانستان چھوڑ چکے ہیں۔
برطانوی ذرائع کے مطابق عباس ستانکزئی حکومت کی جانب سے لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی کے فیصلے پر تنقید کے بعد ملک سے فرار ہونے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ عباس ستانکزئی نے جنوری میں افغانستان کے صوبہ خوست میں ایک گریجویشن تقریب کے دوران بات کی تھی۔ انہوں نے حکومت سے "علم کے دروازے کھولنے" کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کا حال اور مستقبل میں کوئی جواز نہیں ہے ۔
وزیر نے وضاحت کی کہ نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مردوں اور عورتوں کو برابری کی بنیاد پر تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ تاریخ میں غیر معمولی خواتین رہی ہیں ۔ اگر میں ان کے تعاون کی وضاحت کروں تو اس میں کافی وقت لگے گا۔
عباس ستانکزئی نے ’’ ایکس‘‘پر ایک ویڈیو کلپ میں کہا کہ ہم ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ قیادت خواتین کے لیے تعلیم کے دروازے کھول دے۔ ستانکزئی نے مزید کہا کہ خواتین کی تعلیم کی ممانعت اسلام سے متصادم ہے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ "جس کی دو یا تین بیویاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ یکساں سلوک نہ کرے تو قیامت کے دن اس کا نصف جسم جھکا ہوا ہو گا۔"
برطانوی ذرائع کے مطابق طالبان رہنما ھبۃ اللہ اخوندزادہ نے اس تقریر کے بعد عباس ستانکزئی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے اور ان پر سفری پابندی عائد کردی تھی۔ ستانکزئی نے مقامی میڈیا کو تصدیق کی ہے کہ وہ امارات میں ہیں لیکن انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی افغانستان سے روانگی صحت کی وجوہات کی بنا پر ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم 40 ملین میں سے 20 ملین لوگوں کے خلاف ایک ناانصافی کا ارتکاب کر رہے ہیں اور انہیں ان کے تمام حقوق سے محروم کر رہے ہیں۔ یہ اسلام کی خصوصیت نہیں بلکہ یہ ہمارا ذاتی انتخاب ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ستانکزئی اس سے قبل مذاکرات کے دوران طالبان ٹیم کی سربراہی کر رہے تھے جس کی وجہ سے افغانستان سے غیر ملکی افواج کا مکمل انخلا ہوا تھا۔
عباس ستانکزئی اس سے قبل 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا سے قبل دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر میں مذاکرات کاروں کی ایک ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں۔ مقامی چینل "طلوع" نے ستانکزئی کے حوالے سے کہا کہ ہم امارت اسلامیہ کے رہنماؤں سے کہتے ہیں کہ وہ "طالبان" کی طرف سے اپنی انتظامیہ کو دیا گیا نام استعمال کرتے ہوئے تعلیم کے دروازے کھول دیں۔
یاد رہے 2021 میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد سے افغانستان میں خواتین کے حقوق کو منظم طریقے سے سلب کیا گیا ہے۔ انہیں تعلیم، کام اور یہاں تک کہ عوامی مقامات پر جانے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ ان ہی وجوہات کی بنا پر گزشتہ ماہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے طالبان کے سرکردہ رہنما اور افغانستان کے چیف جسٹس کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی کی اپیل کر دی تھی۔ پراسیکیوٹر نے طالبان پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر ظلم کر رہے ہیں جو انسانیت کے خلاف جرم ہے۔