گذشتہ ماہ شام کی ملٹری آپریشنز کمان نے اعلان کیا تھا کہ شام کے سابق صدر بشار الاسد کی معزولی کے دو ماہ سے بھی کم عرصے بعد احمد الشرع کو عبوری مرحلے کے لیے ملک کا صدر منتخب کیاگیا ہے۔
یہ اعلان دمشق میں منعقدہ "شام کے انقلاب کی فتح کی کانفرنس" کے دوران ہوا۔اس میں مسلح دھڑوں کے رہنماؤں نے شرکت کی جو کہ ملٹری آپریشنز ایڈمنسٹریشن کے رکن ہیں۔ مبصرین کے مطابق ایک رائے پر متحد ہونا انتہائی مشکل تھا۔
برسوں سے اختلافات کا شکار دھڑوں کو الشرع متحد کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے ؟
اس پر صدر الشرع نے سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے سابق ترجمان الیسٹر کیمبل اور سابق برطانوی کنزرویٹو وزیر روری سٹیورٹ کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو میں جواب دیا کہ اس معاملے میں مبالغہ آرائی ہے، کیونکہ یہ اتنا مشکل نہیں تھا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ سب کے ساتھ قائل کرنے اور بات چیت کا طریقہ استعمال کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے اور انقلاب کے اہداف کے حصول کے لیے ایک مناسب فارمولے پر پہنچ گئے۔
انہوں نے کہا کہ ان میں سے بہت سے دھڑوں نے وہ نقطہ نظر اپنایا ہ جسے میں نے پیش کیا تھا۔ اتحاد تجربے، آگاہی اور گہرے مکالمے سے حاصل ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے آپس میں لڑے بغیر بہت مثبت نتائج حاصل کئے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ فتح اعلامیہ کانفرنس جس میں دھڑے شامل تھے نے اس وقت توجہ مبذول کی جب مسلح گروہوں نے خود کو تحلیل کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور کانفرنس کے نتائج کو اس پوزیشن میں منظور کیا جو گزشتہ برسوں کے برعکس تقریباً پہلا واقعہ تھا۔اس میں شام کے میدان میں ان میں سے بہت سے لوگوں کے درمیان مقابلہ اور لڑائی دیکھنے میں آئی تھی مگر اس بات یہ سب ایک چھت کے نیچے متحد تھے۔
عبوری مرحلہ
قابل ذکر ہے کہ "ھیت تحریر الشام" کی قیادت میں مسلح دھڑوں نے آٹھ دسمبر 2024 بشارالاسد حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا، جو 13 سال تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ روس فرار ہو گئے تھے۔
صدر کی معزولی کے دو ماہ سے بھی کم عرصے کے بعدشام کے فوجی آپریشنز کے محکمے نے اعلان کیا کہ احمد الشرع کو ملک کا عبوری صدر مقرر کیا جائے گا۔
اس نے خود کو اور پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے اور عبوری مدت کے لیے ایک عبوری قانون ساز کونسل کی تشکیل کے لیے الشرع کو ٹاسک دینے کا بھی فیصلہ کیا۔
اعلامیے میں 2012 ء کے آئین کو معطل کرنے اور بعد میں ملک کے لیے ایک نئے آئین کے مسودے کے لیے کام کرنے کی شرط رکھی گئی۔
ان فیصلوں میں شامی فوج کو تحلیل کرنا اور نئے نظریے کے ساتھ مسلح افواج کی تشکیل بھی شامل تھی۔
اعلامیے میں سابق حکومت سے وابستہ تمام سیکورٹی ایجنسیوں، ان کے تمام ناموں اور شاخوں کی تشکیل اور تمام ملیشیاؤں کو تحلیل کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔